تلنگانہ میں مانسون سرگرم ، حیدرآباد اور اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری

,

   

جی ایچ ایم سی کو 200سے زائد شکایات وصول، گوداوری کی سطح میں اضافہ

حیدرآباد19جولائی (یواین آئی) جنوب مغرب مانسون تلنگانہ میں شدت اختیار کرگیا ہے ۔محکمہ موسمیات نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران بھدرادری کوتہ گوڑم کے بعض مقامات، عادل آباد، مُلگ، کاماریڈی، آصف آباد، نرمل، نظام آباد، سدی پیٹ اور ورنگل میں شدید بارش ہوئی۔اسی دوران تلنگانہ کے کئی دیگر مقامات پر بھی بارش ہوئی۔ حیدرآباد سمیت اضلاع میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔خلیج بنگال میں ہوا کے کم دباو کے پیش نظر یہ بارش ہورہی ہے ۔بارش کے نتیجہ میں کئی سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ہے اور کئی درخت گرگئے ہیں۔محکمہ موسمیات نے اضلاع کھمم، محبوب آباد اور جنگاوں کیلئے ریڈالرٹ جاری کیا ہے ۔کریم نگر، سدی پیٹ، کاماریڈی اضلاع کیلئے آرینج الرٹ جاری کیاگیا ہے ۔عادل آباد، آصف آباد، منچریال،نرمل اضلاع کے لئے ایلوالرٹ جاری کیاگیا ہے ۔کئی آبی پراجکٹس کی سطح آب میں بتدریج اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔گریٹرحیدرآباد میں اسکولس اور دفاتر جانے کے اوقات میں بارش ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے ۔ رامنا گوڈم پشکرگھاٹ میں پانی کی سطح 11 میٹر تک پہنچ گئی۔ حیدرآباد میں بارش سے متعلق جی ایچ ایم سی کو 200سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ 250 سے زائد علاقوں میں نالوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات ہیں۔ سب سے زیادہ 4.6 سنٹی میٹر بارش میا ں پور میں ریکارڈ کی گئی۔ شیخ پیٹ، جوبلی ہلز میں 4.1 سنٹی میٹر، مادھاپور میں 3.7 سنٹی میٹر، کرشنا نگر میں 3.5 سنٹی میٹر، چارمینار میں 3.3 سنٹی میٹر اور وجئے نگر کالونی میں 3.2 سنٹی میٹر بارش ہوئی۔ شہر کی بعض اہم شاہراہوں پر بھی پانی جمع ہونے کی اطلاع ہے جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر ٹریفک جام ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ مسلسل بارش سے بعض مقامات پر درختوں اور برقی پولس کو نقصان پہنچا ہے۔ بھدراچلم ٹاون میں دریائے گوداوری کی آبی سطح میں گزشتہ دو دنوں سے بارش کے سبب معمولی اضافہ ہوا ہے اور اس میں مزید اضافہ کا امکان ہے ۔ سطح آب 43 فٹ تک پہنچ جانے پر پہلے خطرہ کی وارننگ جاری کی جاتی ہے ۔ فی الحال گوداوری کے آبگیر علاقوں میں شدید بارش ہو رہی ہے جس کے سبب دریائے گوداوری کی سطح میں مزید پانچ سے دس فٹ اضافہ کا امکان ہے ۔ دوسری طرف بھدردری کوٹہ گوڑم ضلع کے تالی پیروپراجکٹ میں بھی سطح آب کا اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔