تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کا کوئی پرسان حال نہیں ‘ عہدیداروں کی من مانی

   


جوابدہی کا احساس ختم ۔ وزیر موصوف بھی طرز عمل سے نالاں۔ محکمہ پولیس کی طرز پر کارکردگی
حیدرآباد۔13۔ستمبر(سیاست نیوز) ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی حالت انتہائی قابل رحم ہوچکی ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ محکمہ کے اداروں میں موجود صدورنشین اور ملازمین ہی نہیں بلکہ خود وزیر اقلیتی بہبود عہدیداروں سے رابطہ سے قاصر ہیں جس کے سبب محکمہ کی سرگرمیاں مکمل منجمد ہوکر رہ گئی ہیں ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے طرز عمل کے متعلق عوامی نمائندوں کا کہناہے کہ عہدیدار خود کو قانون اور حکومت سے بالاتر تصور کر رہے ہیں اور انہیں کسی کو جواب دہی کا احساس نہیں ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے مکہ مسجد و شاہی مسجد ملازمین و عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی نمائندگی پر تیقن اور اعلان کے باوجود اب تک عمل آوری نہیں کی گئی بلکہ دونوں مساجد کے ملازمین و عملہ کی خدمات کو آؤٹ سورس کرکے انہیں ایجنسی ملازمین میں تبدیل کردیا گیا۔ اسی طرح مختلف جماعتوں کے منتخبہ نمائندوں کی جانب سے تلنگانہ وقف بورڈ میں مستقل چیف ایکزیکیٹیوآفیسر کے تقرر کیلئے چیف منسٹر کے علاوہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود سے نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوپارہی ہے۔ تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر عہدہ پر مستقل عہدیدار کے تقرر کیلئے توجہ دہانی کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ حج کمیٹی ایکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر بھی اضافی چارج کے ذریعہ دفتری امور چلائے جا رہے ہیں ‘ اردو اکیڈیمی کے ڈائرکٹر سیکریٹری عہدہ پر بھی مستقل عہدیدار نہیں ہے ۔ اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹر جناب شاہنواز قاسم آئی پی ایس کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ اضافی دو عہدوں کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے جن میں چیف ایکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ ‘ ڈائرکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی شامل ہے اور نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر کرسچین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن مسز کانتی ویزلی کو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کی زائد ذمہ داری تفویض کی گئی ہے ‘ اسی طرح تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائیٹی کے سیکریٹری جناب ایم بی شفیع اللہ آئی ایف ایس کو حج کمیٹی کے ایکزیکیٹیو آفیسر کی زائد ذمہ داری تفویض کرکے دفتری امور انجام دیئے جا رہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے انداز کارکردگی پر اب محکمہ کے ملازمین کا کہناہے کہ محکمہ پولیس کی طرز پر چلانے کی عہدیدار کوشش کر رہے ہیں اور اعلیٰ عہدیداروں کے اختلافات کے سبب محکمہ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے امور پر توجہ نہ کئے جانے پر ملازمین کا یہ احساس ہے کہ ایک سے زائد عہدوں پر فائز عہدیدار خود کو جوابدہ تصور نہیں کر رہے ہیں اور خود وزیر اقلیتی بہبود کے فون اٹھانے یا انہیں کسی معاملہ میں وضاحت کرنے آمادہ نہیں ہیں ۔ حکومت سے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے اقدامات کے طور پر بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی گئی اور صدرنشین کارپوریشن جناب امتیاز اسحق نے کئی اقدامات کو منظوری دی لیکن ان کی منظورہ اسکیمات کو ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کے دفتر میں روک دیا گیا جس کے سبب اسکیمات کے احیاء کو یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ اسی طرح اردو اکیڈیمی صدرنشین کے طور پر جناب محمد خواجہ مجیب الدین کی نامزدگی کے بعد حکومت نے بجٹ کی اجرائی کا اعلان کیا لیکن اردو اکیڈیمی کی اسکیمات کے احیاء میں بھی وہی رکاوٹیں ہیں جو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اسکیمات میں ہیں۔ وقف بورڈ میں مستقل سی ای او کی عدم موجودگی کے سبب کئی فائیلیں زیر التواء ہیں اور بورڈ کا لیگل سیل عملی اعتبار سے غیر کارکرد ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کو بہتر بنانے متعدد اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن عہدیداروں کی قلت کا بہانہ بناکر اقلیتوں کیلئے اسکیمات میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر اوورسیز اسکارلرشپس ‘ شادی مبارک و دیگر اسکیمات میں بھی استفادہ کنندگان کو طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں و ملازمین کا ماننا ہے کہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور کا تعلق محکمہ پولیس سے ہونے کی وجہ سے محکمہ کے تمام اداروں میں پولیس عہدیداروں کے تقرر کے ذریعہ محکمہ کو چلانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور حکومت کو یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں کوئی عہدیدار اہل نہیں ہے بلکہ نااہل عملہ کے سبب دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کے ذریعہ اس کو چلایا جارہا ہے۔ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کو بھی شکایت ہے کہ محکمہ کے عہدیدار ان کے استفسا کے اطمینان بخش جواب نہیں دے پاتے یا جواب ہی نہیں دیتے ۔واضح رہے کہ تاریخی مکہ مسجد و شاہی مسجد باغ عامہ کے عملہ و ملازمین کی خدمات کو تیسرے فریق کے حوالہ کرنے احکامات کی اجرائی سے خود وزیر اقلیتی بہبود واقف نہیں تھے جبکہ ملازمین مسلسل ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں نمائندگی کر رہے ہیں۔م