تلنگانہ میں مردم شماری کے ساتھ این پی آر پر بھی عمل

   

این پی آر کا گزٹ ویب سائٹ سے غائب ، مردم شماری کو گزٹ کے مطابق مکمل کرنے کی تیاری
حیدرآباد۔12فروری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں یکم ،اپریل سے 30 ستمبر کے دوران مردم شماری کے سلسلہ میں سروے کیا جائے گا اور اسی کے ساتھ این پی آر پر بھی عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا!۔ این پی آر اور مردم شماری کے دوران موجود فرق کافی معمولی ہے اسی لئے مردم شماری کے دوران این پی آر کا ڈاٹا وصول کیا جانا کوئی دشوار کن عمل نہیں ہے کیونکہ این پی آر میں مکان کے رہائشی کی مدت اور بعض دیگر تفصیلات درکار ہیں جبکہ مردم شماری کے دوران ان تفصیلات کی ضرورت نہیں ہوتی ۔معروف ڈاٹا سائنٹسٹ مسٹر سرینواس کوڈالی نے بتایا کہ مکانات کا سروے ہی این پی آر ثابت ہوگا اسی لئے مردم شماری کے عمل کو ہی این پی آر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ یوم مردم شماری کے سلسلہ میں سرکاری احکام جاری کردیئے گئے ہیں اور اس میں رجسٹرار جنرل و سینسس کمشنر کے احکامات اور ان احکامات سے منسلک احکامات کا حوالہ دیا گیا ہے لیکن اس میں این پی آر کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے بلکہ مردم شماری میں جو سوالات کئے جائیں گے ان سوالات کا ہی تذکرہ ہے اور ان سوالات کے جواب دینا لازمی ہے ۔ یکم ‘ اپریل سے 30ستمبرکی جانے والی مردم شماری کے دوران شہریوں سے جو سوالات کئے جائیں گے ان میں مکان نمبرات‘ مردم شماری کے دوران مکان نمبر‘فرش دیوار اور چھت میں مستعملہ اشیاء کی تفصیل‘ مکان کی حالت‘ مکان کا استعمال‘مکان میں مقیم افراد کی تعداد ‘ خاندان کے سرپرست کا نام ‘ سرپرست کی جنس‘ سرپرست کا طبقہ‘ مکان کی ملکیت کا موقف‘مکان میں موجود کمروں کی تعداد‘مکان میں موجود شادی شدہ جوڑوں کی تعداد‘پینے کے پانی کا ذریعہ‘بیت الخلاء تک رسائی ‘بیت الخلاء کی نوعیت ‘ڈرینیج نظام کی موجودگی‘حمام کی موجودگی‘باورچی خانہ اور ایل پی جی گیاس کنکشن‘پکوان کیلئے استعمال کیا جانے والا بنیادی ایندھن‘مکان میں برقی نظام‘ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ انٹرنیٹ‘ لیاپ ٹاپ‘کمپیوٹر‘ٹیلی فون موبائیل‘اسمارٹ فون‘سواری ‘کار‘ بنیادی غذاء‘ مردم شماری کیلئے رابطہ کا نمبر۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کئے گئے سرکاری احکامات میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ موجود نہیں ہے کہ اس کے ساتھ این پی آر کیا جائے گا بلکہ ان 33سوالات کی وضاحت کردی گئی ہے جو مردم شماری کے دوران کئے جائیں گے۔مردم شماری کے دوران کوئی ایسا سوال نہیں کیا جائے گا جو کہ دستاویزات سے متعلق ہے

اور مردم شماری میں کوئی شناختی کارڈ یا اس کی تفصیلات بھی حاصل نہیں کی جائیں گی ۔مسٹر سرینواس کوڈالی کا کہناہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مردم شماری کے دوران حاصل کی جانے والی ہاؤز ہولڈ کی تفصیلات ہی این پی آر کے لئے کافی ہے اسی لئے وہ مردم شماری کے عمل کو ہی این پی آر تصور کرتے ہیں ۔ این پی آر سے متعلق جو گزٹ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا وہ اب ویب سائٹ پر موجود نہیں ہے لیکن مردم شماری سے متعلق گزٹ ویب سائٹ پر موجود ہے اور اس سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری احکامات اسی گزٹ کی بناء پر ہیں جو کہ مردم شماری کیلئے جاری کیا گیا تھااور عوامی رسائی کے لئے موجود ہے۔مختلف گوشوں سے اس مردم شماری کے عمل کو این پی آر سے جوڑا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ مکان نمبرات کی تفصیلات کے ساتھ این پی آر کا عمل بھی مکمل کرلیا جانے والا ہے۔

(1)عمارت کا نمبر( بلدی یا مقامی اتھارٹی یا مرد شماری نمبر)۔(2) مکان نمبر(3)فرش، دیوار اور چھت میں مستعملہ اشیاء (4) مکان کا استعمال (5) مکان کی حالت (6) ہاوس ہولڈ نمبر (7) مکان میں مقیم افراد کی تعداد (8) خاندان کے سرپرست کا نام (9) سرپرست کی جنس (10)آیا سرپرست کا تعلق ایس سی؍ ایس ٹی یا دیگر طبقہ سے ہے (11) مکان کی ملکیت کا موقف(12)مکان میں موجود کمروں کی تعداد (13) مکان میں مقیم شادی شدہ جوڑوں کی تعداد (14) پینے کے پانی کا ذریعہ (15) پینے کے پانی کے ذریعہ کی دستیابی (16) روشنی کا اصل ذریعہ (17) بیت الخلاء تک رسائی (18) بیت الخلاء کی نوعیت (19) ڈرینج کی موجودگی (20) حمام کی موجودگی (21) باورچی خانہ اور ایل پی جی کنکشن کی دستیابی (22) پکوان کے لئے مستعملہ بنیادی ایندھن (23)ریڈیو؍ ٹرانسسٹر(24) ٹیلی ویژن (25) انٹر نیٹ (26) لیپ ٹاپ؍ کمپیوٹر(27) ٹیلی فون ؍ موبائیل فون ؍ اسمارٹ فون (28)بائسیکل؍اسکوٹر؍ موٹر سائیکل؍ موپیڈ(29) کار؍ جیپ؍ ویان (30)اصل غذا (31) مردم شماری سے متعلق مراسلت کے لئے موبائیل نمبر ۔