تلنگانہ میں مسلمانوں کا حال- اعلان 16 ہزار کروڑ کاخرچ ہوئے صرف 9 ہزار کروڑ

,

   

حیدرآباد۔21۔جون(سیاست نیوز) ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار والی ریاستیں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور ان ریاستوں میں مسلمانوں کو ہراسانی کے علاوہ ان کے خلاف جاری سرگرمیوں سے بی جے پی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن ریاست تلنگانہ میں حکومت مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے اور مسلمانوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں اقلیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے نام پر مختص کئے جانے والے بجٹ کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو حکومت نے تشکیل تلنگانہ کے بعد مالی سال 2015-16 سے جاریہ مالی سال 2023-24تک مجموعی طور پر محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے جملہ 16 ہزار 240 کروڑ 64 لاکھ روپئے مختص کئے لیکن اس مدت کے دوران جو رقم خرچ کی گئی وہ محض 9 ہزار79 کروڑ 85 لاکھ ہے۔ اس طرح تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اب تک محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے مختص کردہ بجٹ میں 7ہزار 160کروڑ 80لاکھ روپئے خرچ نہیں کئے گئے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں نمبر ون سیکولر ریاست کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اب تک مسلمانوں کے ساتھ صرف وعدے اور اعلانات کئے گئے ہیں۔ برسراقتدار جماعت بھارت راشٹرسمیتی نے ریاست بھر میں مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے دعوے اور ہزاروں کروڑ کی تخصیص کے حوالے دئیے جا رہے ہیں لیکن قانون حق معلومات کے تحت حاصل کی گئیں تفصیلات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے مختص کردہ بجٹ اور گرین چیانل سے جاری کئے گئے بجٹ کا جملہ حساب کیا جائے تو سال 2015 سے 2023کے دوران مجموعی اعتبار سے 16ہزار 240 کروڑ 64لاکھ کی تخصیص عمل میں لائی گئی لیکن جملہ خرچ کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اس مدت میں محض 9ہزار79 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں اگر ان 9ہزار کروڑ کو 9 برسوں میں منقسم کیا جائے تو محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ ریاست میں اقلیتوں کی ترقی کے لئے سالانہ صرف ایک ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں جس میں35 فیصد سے زیادہ رقومات محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں میں کام کر رہے ملازمین و عہدیداروں کی تنخواہوں پر خرچ ہوئے اور 65 فیصد رقومات مختلف اسکیمات پر خرچ کی جاتی ہیں۔ اس طرح 3150کروڑ روپئے تک تنخواہوں اور دیگراخراجات پر خرچ کی گئی ہیں اور اسکیمات پر عمل آوری کے لئے جو رقم خرچ ہوئی ہے وہ 5850 کروڑ ہی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاریہ مالی سال 2022-23کے لئے جملہ 2195 کروڑ 71لاکھ روپئے کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے جس میں محکمہ اقلیتی بہبود کے دعوے کے مطابق 222 کروڑ خرچ کئے جا چکے ہیں اور جاریہ مالی سال کے دوران اجرائی کا جائزہ لیا جائے تو محکمہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں کہاگیا ہے کہ تاحال 742 کروڑ 37لاکھ جاری کئے جاچکے ہیں۔ 222کروڑ کے اخراجات کے سلسلہ میں فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق 123 کروڑ 44لاکھ روپئے ٹمریز میں کنٹراکٹرس‘ کرایوں ‘ برقی اور دیگر امور بشمول تنخواہوں کے لئے خرچ کئے گئے ہیں اور 22 کروڑ 12 لاکھ ٹمریز میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کی غذاء کے انتظام کے لئے خرچ کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے بیشتر تمام اداروں میں مجموعی اعتبار سے 72کروڑ 50لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ہیںجس میں 42کروڑ 84لاکھ روپئے شادی مبارک پر خرچ کئے گئے ہیں جبکہ 12 کروڑ 62لاکھ روپئے آئمہ و مؤذنین کو اعزازیہ کی اجرائی پر خرچ کئے گئے ہیں ۔ فیس کی بازادائیگی اسکیم پر مجموعی اعتبار سے 9کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں جبکہ اوورسیز اسکالرشپس کے لئے محض 89 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے کرسمس کے علاوہ افطار ڈنر کے لئے 3 کروڑ 60 لاکھ روپئے خرچ کئے جا چکے ہیں ۔ حکومت نے مالی سال 2023-24میں تلنگانہ ریاستی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ جاری کئے جانے والے بینک سے مربوط قرضہ جات کے لئے 150کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جس میں 37.50کروڑ جاری کئے جانے کا دعویٰ کیا جا رہاہے لیکن خرچ کے اعتبار سے اس میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جاسکا ہے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے قانون حق آگہی 2005کے تحت حاصل کی گئی ان معلومات میں ہونے والے انکشافات سے یہ واضح ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے محض ان کاموں پر ہی بھاری رقومات خرچ کی جا رہی ہیں جو عہدیداروں کی نظر میں ترجیحی ہیں اور تلنگانہ کے مسلمانوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنا عہدیداروں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اسی لئے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے بجٹ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔م