مسلم اقلیت کو بادشاہ گرکا موقف ، بی آر ایس ۔ کانگریس کو جتانا یا ہرانا اقلیتوں کے ہاتھ میں ۔ سیاسی دلالوں سے چوکسی لازمی
حیدرآباد 23 اکٹوبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا اہم اور فیصلہ کن کردار ہوگا ۔ ریاست میں زائد از 55 لاکھ مسلمان ہیں اور 119رکنی اسمبلی میں کم از کم 40 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹر فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں ۔ واضح رہے کہ 2018 انتخابات میں ان 40 حلقوں میں بی آر ایس کو کامیابی ملی تھی ۔ اس طرح اس کے کامیاب امیدواروں میں تقریباً نصف تعداد ان حلقوں کی نمائندگی کرتی تھی ۔ آپ کو بتادیں کہ 2018 کے انتخابات میں ریاست کے 75 فیصد مسلمانوں نے بی آر ایس کا ساتھ دیا اور 2014 کی طرح 2018 میں بھی کے سی آر اپنی حکومت بنانے میں کامیاب رہے ۔ تاہم اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا مسلمان اور اقلیتیں گزشتہ دو اسمبلی انتخابات کی طرح بی آر ایس کی تائید کرینگی یا پھر پڑوسی کرناٹک میں سیکولر جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی جے ڈی ایس کی موجودگی کے باوجود کانگریس کی جس طرح تائید و حمایت کی اور اسے اقتدار دلایا اس طرح تلنگانہ میں حکمت عملی اختیار کریں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کرناٹک انتخابات میں 80فیصد سے زائد مسلمانوں نے جے ڈی ایس کو نظرانداز کر کے متحدہ طور پر کانگریس کی تائید کی ۔ اس طرح عیسائیوں نے بھی کانگریس کا ساتھ دیا ، نتیجہ میں بی جے پی لاکھ فرقہ پرستی کے باوجود شرمناک شکست سے دوچار ہوگئی ۔ سیاسی پنڈتوں کے خیال میں اگر ریاست میں مسلمان اور عیسائی متحد ہوجائیں یا پھر صرف مسلمان متحدہ طور پر کسی ایک پارٹی چاہے وہ کانگریس اور بی آر ایس کیوں نہ ہوں کے حق میں ووٹ استعمال کرتے ہیں تو اس پارٹی کو اقتدار حاصل ہوگا ۔اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ فی الوقت تلنگانہ میں مسلمان متحد ہیں ، بعض طاقتیں جن میں فرقہ پرست جماعتیں اور خود بعض مفاد پرست مسلمان بھی شامل ہیں مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کروانے کی چکر میں ہیں ، انہیں اندازہ نہیں کہ وہ صرف ذاتی مفادات کی خاطر ملی مفادات کو قربان کرنے پر تلے ہیں ۔ ملک کے حالات کسی قدر سنگین ہیں مسلم ووٹرس کو اسے ملحوظ رکھنا ہوگا اور متحد رہ کر نہ صرف فرقہ پرستوں بلکہ راست یا بالواسطہ ان کے مفادات کے تحفظ میں مصروف سیاسی دلالوں کو ایسا سبق دینا ہوگا جس سے وہ دوبارہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو دھوکہ نہ دے سکیں ۔ ان کے نام پر حکمران وقت سے سودے بازی نہ کرسکیں ۔ ایک بات ضرور ہیکہ کرناٹک کے مسلمانوں نے اپنی فراست و حکمت عملی سے اقتدار کو فرقہ پرست درندوں کے منہ سے چھین نکالا اور کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا ، ورنہ ان طاقتوں نے حرام حلال ، حجاب ، سماجی و معاشی بائیکاٹ ، بیف جہاد ، لو جہاد جیسے نعرو ں اور ایجنڈوں سے اقلیتوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی تھی ۔ گرجا گھروں پر حملے کے ذریعہ عیسائی برادری کا جینا محال کردیا تھا لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا ، وہ فرقہ پرستوں کی اقتدار سے بیدخلی کا باعث بنا ۔ تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس اقلیتیں کے تئیں دعویٰ جتا رہی ہیں ۔ ایسے میں آپ کو دونوں پارٹیوں کے وعدوں ،دعوؤں کا بڑے غور و فکر سے جائزہ لینا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کس نے مسلمانوں سے کتنے وعدے کئے تھے اور ان میں کتنے وعدوں کو پورا کیا گیا ۔