جون میں 20 ہزار کروڑ روپئے کے اخراجات، آمدنی صرف 10 ہزار کروڑ ، قرض کی اجرائی سے مرکز کا انکار
حیدرآباد ۔ 31 ۔ مئی (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے تلنگانہ حکومت کو حصول قرض کی منظوری دینے سے انکار کردیا ہے جس کا ریاست کے معاشی نظام پر اثر پڑ رہا ہے اور معاشی بحران کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مکتوبات کا سلسلہ جاری ہے مگر ابھی تک مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوپائی ہے جس سے جون میں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے علاوہ دوسرے امور کی انجام دہی کیلئے محکمہ فینانس تشویش میں مبتلا ہے ۔ جون میں تمام ادائیگیوں کیلئے 20 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ، اس کا انتظام کرنا ریاستی حکومت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوگیا ہے۔ تنخواہوں، پنشن، سود کی ادائیگیوں کے علاوہ سبسڈیز وغیرہ کیلئے ماہانہ 10 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ موسم برسات میں رعیتو بندھو اسکیم کیلئے 7600 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ جون میں اس کی ادائیگی کیلئے حکومت قرض کے حصول کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ مالیاتی سال 2022-23 ء کے دوران ریاستی حکومت نے اپنی آمدنی کے ساتھ ساتھ قرضوں کی بنیاد پر بجٹ تجاویز مرتب کی ہیں ۔ اس سال ریاستی حکومت نے ترقیاتی کاموں کیلئے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی تجاویز تیار کی ہے ۔ جون کے اواخر تک بانڈس فروخت کرتے ہوئے 11,000 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تاہم ابھی تک صرف 270 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں ریاستی ٹیکس آمدنی مرکزی ٹیکسوں کی حصہ داری سے اپنا کام کاج چلا رہی ہے ۔ ماہ مئی کے دوران ہی ملازمین کی تنخواہیں ، پنشن کے علاوہ دیگر ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی تھی ۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار مہینے کے پہلے ہفتہ سے ہی فنڈس اکٹھا کرنے میں دشواریوں کا شکار ہیں ۔ چند اضلاع میں دوسرے ہفتہ کے دوران تنخواہیں ادا کی گئی ۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے اندازہ لگایا ہے کہ ماہ مئی میں ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی 10 ہزار کرور روپئے سے زیادہ نہیں ہوگی ۔ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن محکمہ جات کے ذریعہ 1200 کرو ڑ، محکمہ کمرشیل ٹیکس کے ذریعہ 5500 کروڑ ، محکمہ اکسائیز سے 1100 کروڑ، مرکزی ٹیکس میں حصہ داری اور مرکزی حکومت کی اسکیمات سے 100 کروڑ روپئے دستیاب ہونے کا اندازہ لگایا گیا مگر اخراجات دوگنا ہورہے ہیں۔ غیر ٹیکس آمدنی برائے نام ہے ۔ اس تناظر میں ماہ جون کے اخراجات کیلئے فنڈس اکٹھا کرنے میں پریشانی ہیں۔ مختلف محکمہ جات کی جانب سے ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ بھی برائے نام ہیں جس کے نتیجہ میں فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی اقدامات کیلئے حصول قرض ہی اہم ہے ۔ مئی کے اواخر تک بانڈس فروخت کرتے ہوئے 2000 کروڑ روپئے اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی جس میں بھی ناکامی ہوئی۔ جون کے پہلے ہفتہ میں مرکزی حکومت بانڈس فروخت کرنے کی اجازت دیتی تو دو مرحلوں میں 4000 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی گنجائش فراہم ہوگی ۔ دلت بندھو ، رعیتو بندھو ، رعیتو بیمہ ، برقی سبسیڈی ، اسکالرشپس ، شادی مبارک ، کلیانہ لکشمی اسکیمات کے علاوہ چند ترقیاتی اقدامات کی انجام دہی ، تنخواہیں ، پنشن کیلئے فنڈس کی ضرورت ہے۔ ن