تلنگانہ میں نفرت انگیز تقاریر اور انسداد فرقہ واریت کیلئے قانون ضروری

   

Ferty9 Clinic

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے آئندہ اسمبلی سشن میں بل پیش کرنے حکومت کا ارادہ ۔ بی جے پی کی جانب سے رخنہ اندازی کی کوششیں

حیدرآباد 11 جنوری ( سیاست نیوز) کرناٹک کی طرز پر تلنگانہ میں بھی فوری فرقہ وارانہ ہم آہنگی و انسداد فرقہ واریت کیلئے قانون سازی کی جانی چاہئے تاکہ ریاست میں کسی بھی طرح کی زہر افشانی اور فرقہ وارانہ اشتعال والے بیانوں کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست میں ایسے قانون کی تیاری اور نفاذ کا اعلان کیا تھا اور پڑوسی ریاست کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اس قانون کی منظوری اور نفاذ کو یقینی بنانے کا عمل شروع کردیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کرسمس تقریب سے خطاب میں ایسے قانون کی تیاری کے اپنے منصوبہ کا اعلان کیا تھا ۔ کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت پر بی جے پی دباؤ ڈالتے ہوئے اس قانون کی تیاری اور منظوری میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حکومت آئندہ اسمبلی اجلاس میں بل پیش کرنے کااعلان کرچکی ہے لیکن بی جے پی نے اس کی مخالفت کااعلان کرکے مخالف مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمیعۃ علمائے ہندتلنگانہ ‘ آل انڈیا علماء بورڈ ‘ جماعت اسلامی و دیگر تنظیموںاور سیاسی جماعتوں بالخصوص بی آر ایس کی جانب سے ریاستی حکومت کو بی جے پی کے رویہ کو نظر میں رکھتے ہوئے اس قانون سازی کے دوران سخت احتیاطی تدابیر کا مطالبہ کیا جار ہاہے ۔ کہا گیا کہ حکومت اس انسداد نفرت کے اس قانون کی تیاری میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کرے اور نہ کوئی قانونی لچک اور گنجائش رکھی جائے جس کے نتیجہ میں اس قانون کو عدالتوں میں چیالنج کیا جاسکے۔ سیاسی جماعتوں اور ملی تنظیموں کی جانب سے حکومت سے نمائندگیوں میں کہا جارہا ہے کہ حکومت مساوات‘ وقار اور انصاف کی بنیادوں پر ایسے قوانین کی تیاری کو یقینی بنائے کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو کسی دوسرے مذہب کی دلآزاری کرنے کی اجازت نہ ہو اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گنجائش موجود رہے۔ نفرت پر مبنی تقاریر و بیانات جاری کرنے والوں کے خلاف 3 تا 10 سال کی سزاء کی گنجائش فراہم کرنے اور نفرت پر مبنی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کیلئے 7 تا 14 سال قید با مشقت کی گنجائش فراہم کی جانی چاہئے ۔ علاوہ ازیں ہجومی تشدد میں شامل افراد کے خلاف عمر قید تک کی گنجائش فراہم کرکے قوانین کو منظورکیا جانا چاہئے تاکہ فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعا ت پر قابو پایا جاسکے۔ اس کے علاوہ متاثرین یا ان کے خاندان کی بہبود کیلئے حکومت سے پالیسی کا اعلان کیا جانا چاہئے اور متاثرین کے افراد خاندان کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے فنڈس کی تخصیص عمل میں لائی جانی چاہئے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ نفرت کے خاتمہ کیلئے اس کی واضح تشریح کی جانی چاہئے اور نفرت پر مبنی کسی بھی جرم کے ارتکاب پر فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ ان مقدمات کی 90 تا 120 یوم میں یکسوئی کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ حکومت نفرت پر مبنی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانون کی تیاری سے قبل تمام مذاہب اور طبقات کی ذمہ دار شخصیات سے تجاویز حاصل کرے تاکہ قانون سازی میں حکومت کو دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تنظیموں کے نمائندوں اور ذمہ داران کا کہناہے کہ حکومت قانون سازی اور اس کے نفاذ کے ساتھ جب تک خصوصی تحقیقاتی سیل کی تشکیل عمل میں نہیں لاتی اس وقت تک نفرت انگیز جرائم کا تدارک ممکن نہیں ہوگا اور قانون میں یہ گنجائش رہے کہ اگر خصوصی تحقیقات و تفتیش کیلئے قائم سیل غلط کام کرتے ہیں تو عدالت کی نگرانی میں ان کی تفتیش و تحقیقات کو پورا کیا جائے۔3