12 شناختی دستاویزات میں ایک لازمی، روزنامہ سیاست سے رہنمائی
حیدرآباد ۔ 31 ۔مارچ (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تلنگانہ میں ووٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی (SIR) کا عمل اپریل سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس مہم کیلئے حکومت‘ الیکشن کمیشن ، روزنامہ سیاست کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں ، رضاکارانہ تنظیموں اور شخصیتوں کی جانب سے عوام میں نہ صرف شعور بیدار کیا جا ر ہاہے بلکہ رہنمائی بھی کی جارہی ہے جس کا مقصد صاف شفاف اور درست ووٹر لسٹ کی تیاری ہے۔ اس مہم کے تحت بوتھ لیول آفیسرس (BLOs) گھر گھر پہنچ کر رائے دہندوں کی تفصیلات جمع کر یں گے اور ان کی اہلیت کی تصدیق کریں گے ۔ ہر ووٹر کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ کم از کم ایک مستند شناختی دستاویز پیش کریں جبکہ شک کی صورت میں مزید دستاویزات بھی طلب کئے جاسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس عمل کے ذریعہ فوت شدہ افراد کے نام حذف کئے جائیں گے ۔ ڈوپلیکٹ ووٹ ختم کئے جائیں گے ۔ غیر ملکی یا نااہل افراد کے نام نکالیں جائیں گے ۔ 18 سال عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹرس کو شامل کیا جائے گا ۔ اگر کسی ووٹر کا نام دو مختلف مقامات پر درج ہے تو ایک کو منسوخ کیا جائے گا ۔ مستقل طور پر منتقل ہونے والے افراد کے نام بھی پرانی جگہ سے حذف کئے جائیں گے ۔ BLOs ہر ووٹر کے گھر ایک سے زائد مرتبہ جاکر تفصیلات کی تصدیق کریںگے اور فارم کی خانہ پوری میں مدد کریں گے ۔ سیاسی جماعتیں بھی اس عمل میں شامل ہوں گی ۔ تسلیم شدہ پارٹیوں کے ایجنٹس بوتھ لیول ایجنٹس (BLOs) بھی اس عمل میں تعاون کریں گے ۔ ووٹرس کیلئے ضروری ہے کہ جب BLOS سروے کیلئے گھر پہنچتے ہیں تو 12 شناختی کارڈس میں کوئی ایک کارڈ ضرور پیش کریں۔ شک ہونے پر مزید دستاویزات طلب کی جاسکتی ہیں۔ (1) ملازم شناختی کارڈ ، مرکزی و ریاستی سرکاری اور ریٹائرڈ ملازمین اپنا شناختی کارڈس پیش کرسکتے ہیں۔ (2) شہریت کا ثبوت یکم جولائی 1987 سے پہلے کے دستاویزات مثلاً حکومت ، بنک ، پاسپورٹ جیسے اداروں کے دستاویزات جس پر گھر کا پتہ درج ہو۔ (3) پیدائش کا سرٹیفکٹ میونسپلٹیز، گرام پنچایتوں کی جانب سے جاری کردہ جس میں تاریخ پیدا ئش اور مقام شامل ہو۔ (4) پاسپورٹ (5) تعلیمی اسنادات SSC ، انٹر ، یونیورسٹیز کا مارکس پر مشتمل میمو جس میں تاریخ پیدائش والے کا نام وغیرہ د رج ہوتا ہے۔ (6) مستقل رہائش کا سرٹیفکٹ‘ تحصیلدار کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکٹ (7) جنگلاتی حقوق کا سرٹیفکٹ (قبائلی علاقوں کیلئے ) (8) ذات پات کا سرٹیفکٹ ، کونسی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ تصدیق کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکٹ (9) شہریوں کا قومی رجسٹر (NRC جہاں نافذ ہو) فی الحال یہ آسام جیسے چند علاقوں میں عمل میں ہے۔ (10) خاندانی رجسٹر (پنچایت/ میونسپلٹی) جن میں ارکان خاندان کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ (11) زمین یا مکان کا الاٹمنٹ لیٹر یہ بھی مقامی ہونے کی صدیق کرے گا۔ (12) آدھار کارڈ 12 ہندسوں والا نئے 9 ستمبر 2025 کے نئے قواعد کے مطابق جس کو بھی قبول کیا جائے گا ۔ الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کی جانچ کریں اور درست معلومات فراہم کریں تاکہ ایک شفاف اور قابل اعتماد انتخابی نظام کو یقینی بنایا جاسکے ۔ 2