تلنگانہ میں چکن اور انڈوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

   

قوت مدافعت میں اضافہ کا تصور، پہلی لہر میں نقصان کے بعد پولٹری انڈسٹری کو راحت

حیدرآباد۔ کورونا سے بچاؤ کیلئے چکن اور انڈوں کے استعمال کی ماہروں کی جانب سے ترغیب کے بعد سے ریاست میں چکن اور انڈوں کی فروخت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ پولٹری صنعت کو کورونا کی پہلی لہر کے دوران ماہانہ تقریباً 250 کروڑ کا نقصان ہوا تھا کیونکہ برڈ فلو کے خطرہ کو دیکھتے ہوئے عوام نے چکن اور انڈوں کے استعمال کو ترک کردیا تھا۔ کورونا وباء اور پھر برڈ فلو کی افواہوں نے پولٹری انڈسٹری کو پہلی لہر کے دوران بری طرح نقصان سے دوچار کیا تاہم دوسری لہر کے موقع پر ماہرین نے کورونا سے نمٹنے میں چکن اور انڈوں کے استعمال کو قوت مدافعت میں اضافہ کا سبب قرار دیا ہے جس کے بعد سے بتایا جاتا ہے کہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع میں بھی چکن اور انڈوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں انڈوں کی فروخت میں 20 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ نیشنل ایگ کوآرڈینیشن کمیٹی کے مطابق حیدرآباد میں عام حالات میں روزانہ 80 لاکھ انڈے فروخت ہوتے ہیں لیکن کورونا کی دوسری لہر میں ایک کروڑ سے زائد انڈے روزانہ فروخت ہورہے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ قوت مدافعت کی غذاؤں میں انڈا زیادہ بہتر ثابت ہوسکتا ہے جس میں قدرتی اجزاء موجود ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر وٹامن اے، وٹامن بی 12 قوت مدافعت میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ انڈوں کی مانگ میں اضافہ کا اثر قیمتوں پر بھی پڑا ہے لیکن خریدی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ماہِ مئی میں پولٹری انڈسٹری کو انڈوں سے 130 کروڑ کے کاروبار کا امکان ہے۔ گزشتہ سال انڈوں کی فروخت میں 50 فیصد کی کمی ہوگئی تھی۔ تلنگانہ میں روزانہ 4 کروڑ انڈوں کی پیداوار ہے جن میں سے 1.75 کروڑ ریاست میں فروخت ہوتے ہیں جبکہ باقی مہاراشٹرا ، آندھرا پردیش، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کو روانہ کئے جاتے ہیں جہاں انڈوں کی پیداوار کم ہے۔ اسی دوران تلنگانہ پولٹری بریڈرس اسوسی ایشن کے مطابق تلنگانہ میں روزانہ تقریباً 3 کروڑ کیلو چکن استعمال کیا جارہا ہے۔ کورونا وباء کی دوسری لہر میں فروخت میں اضافہ درج کیا گیا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے پہلی لہر کے دوران عوام کو انڈے اور چکن کے استعمال کی ترغیب دی تھی۔ کے ٹی آر نے دیگر وزراء کے ساتھ چکن فیسٹول میں شرکت کرتے ہوئے برڈ فلو کے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی دوران انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی ڈائرکٹر آر ہیما لتا نے وضاحت کی ہے کہ صرف انڈوں کا استعمال قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے کافی نہیں ہے بلکہ عوام کو ترکاری اور میوہ جات کے استعمال پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔