تلنگانہ میں کانگریس اقتدار کے بعد حکومت نے 49 ہزار 618 کروڑ قرض حاصل کیا

   

سابقہ حکومت کے 56 ہزار 440 کروڑ قرض و سود کی ادائیگی ، ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر فینانس ملوبھٹی وکرمارک سے تفصیلات کی اجرائی
حیدرآباد۔16 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تلنگانہ میں حکومت نے مجموعی طور پر 15 اکٹوبر تک 49ہزار 618کروڑ روپئے قرض حاصل کیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹرو ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے آج ریاستی حکومت کے مالی موقف کے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے بھارت راشٹرسمیتی کے کارگذار صدر مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سے 49ہزار618 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے جبکہ 56ہزار440 کروڑ کے سابقہ حکومت کے قرض و سود کی ادائیگی عمل میں لائی گئی ہے۔ مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ہرماہ کی پہلی تاریخ کو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ڈسمبر 2023 سے 15 اکٹوبر 2024 کے دوران حکومت نے محض 49ہزار618 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے جبکہ اس مدت میں حکومت کی جانب سے ریاست پر جو قرض کا بوجھ تھا اس میں 56ہزار 440 کروڑ کے قرض اور سود کی ادائیگی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اصل مصارف جو ادا کئے گئے ہیں وہ مجموعی اعتبار سے 21ہزار881 کروڑ کے ہیں جبکہ حکومت نے 54 ہزار 346 کروڑ کے مصارف سے کسانوں کے قرض معافی ‘ مفت برقی ‘ گیاس سبسیڈی ‘ کلیان لکشمی ‘ خواتین کے لئے مفت آر ٹی سی ‘ گروہا جیوتی کے علاوہ اسکالرشپس اسکیموں پر عمل آوری کویقینی بنایا گیا ہے۔ کارگذار صدر بی آر ایس پارٹی مسٹر کے ٹی راما راؤ نے آج تلنگانہ پر 80 ہزار کروڑ کے قرض کا دعویٰ کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ حاصل کیا گیا قرض کہاں خرچ کیا گیا ہے! ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس نے قرض کے حصول اور دیگر اخراجات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے انہیں جواب دیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے سرکاری ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔3