تلنگانہ میں کانگریس حکمرانی کے بعد پہلا بدی پرنیکی کی فتح کا تہوار

   

اسواراؤ پیٹ میں گرین پاور پلانٹ کا افتتاح، ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارک کا خطاب
حیدرآباد۔12۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں عوامی حکمرانی کے آغاز کے بعد یہ پہلا بدی پر نیکی کی فتح کا تہوار ہے اور کانگریس حکومت اس موقع پر اپنے وعدوں کا اعادہ کرتے ہوئے عوام کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود و ترقی کے سلسلہ میں کئے گئے تمام وعدوں پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے آج اسواراؤ پیٹ کتہ گوڑم میں 2.5 میگاواٹ گرین پاؤر پلانٹ کے افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ قدرتی وسائل کے استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کے بغیر 20ہزار میگاواٹ برقی پیداوار کے نشانہ کو حاصل کرنے کے منصوبہ کیساتھ کام کر رہی ہے اور انہیں یقین ہیکہ حکومت اس نشانہ کے حصول میں جلد کامیاب ہوگی۔ مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے 73کروڑ روپئے جاریہ مالی سال کے دوران مختص کئے گئے ہیں اور حکومت زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کے قرض معافی کا آغاز کرچکی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت کے خلاف جو لوگ بیان بازی کر رہے ہیں ان کو تنقید کے علاوہ کچھ نہیں آتا اسی لئے وہ حکومت کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حکومت اپنے منصوبوں کو قابل عمل بناتے ہوئے ریاست کی ترقی کی راہیں ہموار کرتی رہے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے شمسی توانائی کے پلانٹس کی تیاری کے پائلٹ پراجکٹ کیلئے مختلف مواضعات کا انتخاب کرلیا ہے جہاں برقی پیداوار کے سلسلہ میں اقدامات کویقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان مواضعات میں اس پراجکٹ کی کامیابی کیساتھ ہی ریاستی حکومت شمسی توانائی کی پیداوار کے فروغ کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ سابقہ حکومت نے کسانوں اور زرعی مزدوروں کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ ان کے قرض معافی کے نام پر ان کیساتھ مذاق کیا گیا ہے لیکن کانگریس حکومت کی جانب سے کسانوں کے قرض معافی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جاچکے ہیں اور جلد ہی حکومت زرعی شعبہ کیلئے پیداوار کے انشورنس کی اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے تلنگانہ میں زرعی انقلاب لائے گی۔ انہوں نے مخالف حکومت پروپگنڈہ کرنے والوں کو حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اس سے ہونے والے فوائد کا مشاہدہ کرنے کے بعد لب کشائی کا مشورہ دیا اور کہا کہ بے بنیاد الزامات کا سلسلہ فوری طور پر ترک کیا جائے۔3