تلنگانہ میں کوئی طبقہ کے سی آر و مودی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں

   

عوام ریاست میں اندرماں راجیم کی واپسی کے خواہشمند۔ سی ایل پی لیڈر ملو بھٹی وکرامارکا کا دعوی

حیدرآباد 15جولائی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کوئی بھی طبقہ ریاستی ومرکزی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور نہ تلنگانہ عوام دوبارہ ریاست میں بی آر ایس کی حکمرانی دیکھنا چاہتے ہیں۔ کانگریس مقننہ پارٹی کے لیڈر مسٹر ایم بھٹی وکرمارک نے آج میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں عوام ’اندرماں راجیم‘ کی واپسی کے خواہاں ہیں اور وہ کانگریس کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے۔ ملو بھٹی وکرمارک نے ریاستی و مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ’جاگیردارانہ طرز حکمرانی‘ ہے اور مرکز میں سرمایہ دارانہ طرز حکمرانی ہے اور دونوں نے ریاست اور ملک کو برباد کردیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس کو اقتدار ملنے پر کانگریس عوام کی دولت عوام میں تقسیم کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گی اور سماج کے تمام طبقات سے انصاف رسانی کے عمل کو بحال کیا جائے گا۔بھٹی وکرمارک نے کہا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کی صورت میں کون چیف منسٹر ہوگا یہ بات اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ کانگریس کو اقتدار میں لانے کی کوشش اور عوامی خواہش کی اہمیت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں بنکر جی ایس ٹی سے پریشان ہیں تو طلبہ تعلیمی وظائف کیلئے پریشان ہیں ‘ کسان دھرانی پورٹل کے ذریعہ اپنی جائیداد کے چھینے جانے کے خدشات کا شکار ہیں تو عوام جائیدادوں کو دھرانی سے بچانے کی فکر میں ہیں۔ مسٹر وکرمارک نے بتایا کہ حکومت میں تمام طبقات اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کو ایک طرف کردیا ہے تو دوسری جانب ریاستی حکومت ایک خاندان کے اطراف چلائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے ریاست کے عوام میں مایوسی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ سماج کا کوئی طبقہ نہیں چاہتا کہ دوبارہ بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہو اور مرکزی میں بی جے پی اقتدار میں آئے۔ قائد مقننہ کانگریس نے کہا کہ کانگریس اقتدار حاصل کرتی ہے تو تمام عوامی خواہشات کو پورا کیا جائیگا اور عوام کے ذریعہ عوام کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائیگا۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کے 9 سالہ دور اقتدار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے اس دوران کوئی قابل قدر کارنامہ نہیں کیا بلکہ خوابوں کی دنیا میں زندگی گذار رہے ہیں ۔ انہوں نے ریاست کے اثاثہ جات کو لوٹنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت نے 9 برسوں میں زرعی شعبہ ‘ آبپاشی کے علاوہ دیگر شعبہ جات کو تباہ کردیا اور سرکاری ملازمین میں خوف کا ماحول پیدا کیا جار ہا ہے۔م