تلنگانہ میں کورونا کی نئی لہر کے پیش نظر عوام کو چوکنا رہنے کا مشورہ

   


وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع ہونے ضروری، ماہرین کا بیان

حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے نئی لہر کے دباؤ میں ماہرین نے وائرس کی نئی علامات کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام کو چوکنا رہنے کی تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ان علامات کے ظاہر ہونے پر خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ نئے کورونا وائرس کو پچھلے وائرس سے زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہے ا ور کہا جا رہاہے کہ یہ وائرس پہلے سے زیادہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ لاس آلاموس نیشنل لیباریٹری (امریکہ ) کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر کے دوران پائے جانے والے وائرس کے مشاہدہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ وائرس سابقہ وائرس سے 60 فیصد خطرناک اور مہلک ثابت ہورہا ہے۔نئے وائرس کی علامات کے سلسلہ میں ماہرین نے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اس وائر س کی علامات میں سونگھنے اور ذائقہ کی صلاحیت کے ختم ہونے کے علاوہ دست و قئے‘ بخار کے ساتھ قئے ‘ سردی سے کپکپی‘ اعضاء شکنی ‘ گلے میں خراش‘ سردرد اور چکر‘ حلق میں سوزش کے علاوہ دیگر علامات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دست و قئے کی شکایات کی صور ت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع ہونے کے علاوہ سردی اور کپکپی پر بھی ڈاکٹر سے رجوع ہونے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ضعیف العمر افراد میں اعضاء شکنی کی شکایت کے ساتھ ہی انہیں ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ سردرد اور چکر عام طور پر سردی اور نزلہ کی صورت میں ہوتا ہے لیکن اگر ان حالات میں سردرد اور چکر آتے ہیں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے علاج پر توجہ دینی چاہئے ۔ حلق میں سوزش اور تکلیف کی صورت میں بھی ماہر سے مشورہ کے بغیر گھریلو نسخوں پر اکتفاء کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ دنیا بھر کے 50ممالک میں 14 فیصد کورونا وائرس کے ایسے مریض پائے گئے ہیں جن میں اعضاء شکنی کی شکایات پائی گئی ہیں اور ان کے معائنہ کی صورت میں انہیں کورونا وائرس مثبت پایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ برطانیہ میں پائے جانے والے نئے کورونا وائرس کے دنیا کے دیگر ممالک میں پہنچنے کی قوی امکانات ہیں کیونکہ کافی طویل مدت کے بعد عہدیداروں نے اس نئے طرز کے وائرس کی توثیق کی ہے اور اس دوران کئی مسافرین نے دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے ان مسافرین میں کتنے لوگ اس نئے وائرس سے متاثر تھے اور ان متاثرین نے کتنے لوگوں کو نئے قسم کے کورونا وائرس سے متاثر کیا ہے۔