تلنگانہ میں کورونا کے دوسرے مرحلہ کا خطرہ، ماہرین کی رپورٹ

   

ڈسمبر تک کیسس تین گنا بڑھ جائیں گے، عوام کی جانب سے عدم احتیاط سے کیسس میں اضافہ کا اندیشہ

حیدرآباد: تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کورونا کیسس میں کمی کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن ماہرین نے دوسرے مرحلہ کے کیسس کی پیش قیاسی کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ چوکسی میں اضافہ کرے۔ ایڈمنسٹریٹیو اسٹاف کالج آف انڈیا ، فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اور بعض دیگر تجارتی اداروں کے سروے کی بنیاد پر پیش قیاسی کی گئی ہے کہ تلنگانہ میں جاریہ سال کے اختتام تک کورونا کے کیسس میں تین گنا اضافہ ہوگا۔ موسم کی تبدیلی کا اثر کورونا کے کیسس میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ اداروں نے پیش قیاسی کی ہے کہ تلنگانہ میں روزانہ 3500 نئے کیسس منظر عام پر آئیں گے اور اموات کی تعداد دوگنی ہوجائے گی۔ مختلف اداروں پر مشتمل تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کسی بھی وقت تلنگانہ کو متاثر کرسکتی ہے۔ کورونا سے نمٹنے کے معاملہ میں تلنگانہ جنوبی ہند میں سرفہرست ہے لیکن ماہرین نے حکومت کو چوکسی برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ کورونا کیسس کے درمیانی مرحلہ میں ہے اور اس کا خاتمہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اسسٹنٹ پروفیسر سنٹر فار ہیلت کیر مینجمنٹ ڈاکٹر ایس کشور مشرا نے کہا کہ ریاست میں پازیٹیو کیسس کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے جس کیلئے آنے والے بعض تہوار اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تہواروں کے علاوہ سردی کے موسم میں وائرس کا پھیلاؤ بآسانی ممکن ہے۔ مختلف اداروں نے جو مشترکہ رپورٹ تیار کی ہے ، ان کے مطابق مریضوں اور اموات کی تعداد میں 2 تا 3 گنا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ رپورٹ میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو آنے والے خطرہ کے بارے میں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ کورونا کے علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل کیا جائے تاکہ غریب خاندانوں کو مفت علاج کی سہولت میسر ہو۔ ماہرین نے ریاست میں احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں عوام کی لاپرواہی پر تشویش کا اظہار کیا۔ عوام کی جانب سے بمشکل 30 فیصد افراد ماسک کا لازمی طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ عوامی مقامات پر ہجوم اور ماسک کے عدم استعمال کی صورت میں کورونا کی دوسری لہر میں کیسس کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔