تعلیم کا بجٹ ملک میں سب سے کم، کانگریس ترجمان نظام الدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/12 جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت ہر سال تلنگانہ میں ایک ہزار سے زائد گورنمنٹ پرائمری اسکولس بند کررہی ہے۔ پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت نے نظام تعلیم بالخصوص پرائمری تعلیم کو تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں قائم کردہ اقامتی اسکولوں کی بڑے پیمانے پر تشہیر کررہے ہیں لیکن اس حقیقت کو چھپایا جارہا ہے کہ کسی نہ کسی بہانے ہزاروں پرائمری اسکولس بند کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2013-14 میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے وقت28,822 گورنمنٹ اسکولس تھے جو 2018-19 میں گھٹ کر 26040 ہوگئے۔ حکومت مزید 4 ہزار اسکولوں کو مستقل طور پر بند کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ نظام الدین نے ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم برائے تعلیم کی تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین برسوں میں سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں ایک لاکھ سے زائد کی کمی آئی ہے جبکہ خانگی اسکولوں میں طلبہ کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014-15 میں سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 22.87 لاکھ تھی جو 2016-17 میں گھٹ کر 21.72 لاکھ ہوچکی ہے۔ اس طرح ایک لاکھ 14 ہزار 739 کی کمی ہوئی ہے۔ 2017-18 اور 2018-19 کے اعداد و شمار سرکاری طور پر جاری نہیں کئے گئے۔ امکان ہے کہ ان دو برسوں میں تعلیم ترک کرنے والے طلبہ کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ نظام الدین نے کہا کہ مدرسوں اور غیر مسلمہ اسکولوں میں 2014-15 میں 69082 طلبہ کے داخلوں میں کمی ہوئی جبکہ 2016-17 میں یہ تعداد 34970 رہی۔ برخلاف اس کے خانگی اسکولوں میں داخلوں میں 47631 کا اضافہ ہوا ۔ انہوں نے اسکولوں سے ایک لاکھ طلبہ کے تعلیم ترک کرنے پر حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدے کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت پرائمری تعلیم کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی اور اسکول بلڈنگس، اساتذہ کے تقررات اور انہیں تنخواہوں کی ادائیگی پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ تعلیمی شعبہ پر خرچ کے معاملہ میں ریزرو بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ 29 ریاستوں اور 2مرکزی زیر انتظام علاقوں سے بھی پیچھے ہے۔ حکومت نے ہر سال تعلیم کے بجٹ میں کمی کردی ہے۔ سابق کانگریس حکومت نے تعلیم کے شعبہ کیلئے بھاری بجٹ مختص کیا تھا اور پری میٹرک ، پوسٹ میٹرک اسکالر شپ، مڈ ڈے میلس ، فیس ری ایمبرسمنٹ اور دیگر اسکیمات کا آغاز کیا گیا تھا لیکن ٹی آر ایس برسراقتدار آنے کے بعد عمل آوری روک دی گئی۔ پریس کانفرنس میں حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر ولی اللہ موجود تھے۔