بیرونی افراد اور مائیگرنٹ ورکرس سے پھیلاؤ کا اندیشہ، کورونا ٹسٹ میں اضافہ کی ضرورت
حیدرآباد ۔29۔ مئی(سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں میں دن بہ دن کورونا کے کیسیس میں اضافہ ایک طرف حکام تو دوسری طرف عوام کے لئے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ دونوں ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں بڑے پیمانہ پر نرمی دیتے ہوئے تجارتی سرگرمیوں کو بحال کردیا گیا جس کے نتیجہ میں سماجی فاصلہ اور دیگر پابندیوں کا عملاً خاتمہ ہوچکا ہے۔ حکومتوں نے جیسے ہی صورتحال کو قابو میں ظاہر کرتے ہوئے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ، اسی وقت سے کورونا کے کیسیس میں اضافہ ہونے لگا۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں روزانہ اوسطاً 50 تا 60 کیسیس منظر عام پر آرہے تھے لیکن گزشتہ 24 گھنٹوں میں دونوں ریاستوں میں تازہ کیسیس کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ۔ عوام کو اندیشہ تھا کہ کیسیس میں اضافہ کی صورت میں حکومت تحدیدات میں مزید سختی پیدا کرے گی لیکن دونوں حکومتوں کا رویہ تحدیدات میں مزید نرمی کی طرف مائل دکھائی دے رہا ہے ۔ تلنگانہ میں کل ایک ہی دن میں 117 نئے کیسیس منظر عام پر آئے جن میں خلیجی ممالک سے آنے والے 49 افراد اور 2 مائیگرنٹ ورکرس شامل ہیں۔ 66 مقامی افراد میں کورونا پازیٹیو پایا جانا آنے والے دنوں کی ابتر صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ تلنگانہ میں کورونا کے اب تک جملہ 2256 کیسیس منظر عام پر آچکے ہیں اور 67 افراد کی موت واقع ہوئی۔ فی الوقت 844 مریض مختلف دواخانوں میں زیر علاج ہیں۔
دوسری طرف آندھراپردیش میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 54 نئے کیسیس منظر عام پر آئے ۔ دیگر ریاستوں سے واپس ہونے والے مائیگرنٹ ورکرس کے ذریعہ کورونا پھیلنے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ آندھراپردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9858 نمونوں کا ٹسٹ کیا گیا جن میں 54 پازیٹیو پائے گئے ۔ آندھراپردیش میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 59 تک پہنچ چکی ہے ۔ دونوں تلگو ریاستوں میں کورونا کیسیس میں اضافہ پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ حکومتوں کا ماننا ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والے افراد اور مائیگرنٹ لیبرس کے سبب وائرس مقامی افراد میں پھیل رہا ہے۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود تلنگانہ حکومت نے تاحال کورونا ٹسٹ کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا ہے اور نہ خانگی لیابس کو ٹسٹ کی اجازت دی گئی۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ پانچویں مرحلہ میں دونوں حکومتیں کورونا سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاون کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گی ۔