تلنگانہ وقف بورڈ سیاسی اثرات کا شکار ، کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی اراضیات کا مقدمہ شکست کے دہانے پر

   

بورڈ کے وکلاء کی عدم پیروی ، برسر اقتدار پارٹی کے رکن اسمبلی نے موقوفہ اراضی پر قبضہ کے بعد فروخت کردیا
حیدرآباد۔8۔ جون۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ پر سیاسی اثرات کے نتیجہ میں کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی اراضی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں شکست کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور وقف بورڈ کے وکلاء کی عدم پیروی سپریم کورٹ میں عاشور خانہ علی سعدؒ اور سیف نواز جنگ کی 700 ایکڑ اراضی کے مقدمہ میں شکست کا خدشہ ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں برسراقتدار سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے شہر کے ایک رکن اسمبلی نے جو مامڑپلی ‘ مہیشورم میں کروڑہا روپئے کی موقوفہ اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے اسے فروخت کردیا تھا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں اس جائیدادکے متعلق مقدمہ میں شکست کے بعد ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں خصوصی مرافعہ نئے بورڈ کی تشکیل کے بعد داخل کیا گیا جس پر سپریم کورٹ نے 700 ایکڑ جائیداد کی رجسٹری یا منتقلی پر امتناعی احکام جاری کئے لیکن اس کے بعد سے ہونے والی سماعت کے دوران وقف بورڈ کے وکلاء کی جانب سے عدم موجودگی نے شبہات پیدا کرنے شروع کردیئے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اس مقدمہ کے وکلاء کو سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ میں پیروی سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور منظم انداز میں کی جانے والی اس سازش کے ذریعہ سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمہ میں شکست کی راہ ہموار کی جانے لگی ہے۔ عاشور خانہ علی سعدؒ اور سیف نواز جنگ ‘ علی گوڑہ نامی اوقافی اداروں کے تحت مجموعی اعتبار سے 700 ایکڑ اراضی موجود ہے جس میںصرف عاشور خانہ علی سعدؒ کے تحت 488 ایکڑ اراضی موجود ہے جس پر ناجائز قبضہ جات کے خلاف سپریم کورٹ میں جملہ 40خصوصی مرافعہ داخل کئے گئے ہیں لیکن ان مقدمات میں عدم پیروی کی شکایات کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاستی وقف بورڈ نے جن وکلاء کو یہ ذمہ داری تفویض کی ہے وہ اس مقدمہ کی پیروی کے لئے حاضر نہیں ہورہے ہیں اور ان کی عدم موجودگی اور درخواست گذار کی جانب سے مقدمہ کے متعلق مسلسل بے اعتنائی پر سپریم کورٹ نے 21 فروری 2023کو ہوئی سماعت کے دوران جاری کردہ احکامات میں کہا کہ درخواست گذار کو مقدمہ کی سماعت میں حاضر ہونے کی آخری 4ہفتہ کی مہلت دی جارہی ہے اور مقدمہ کی سماعت 14 مئی 2023 کو مقرر کی گئی تھی اور 19مئی 2023 کو ہوئی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں داخل کی گئی خصوصی درخواست مرافعہ نمبر 4166-4175/2022 میں فاضل جج نے تحریری احکامات میں درخواست گذار کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گذار یعنی تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو آخری موقعہ فراہم کئے جانے کے باوجود فریقین تک رسائی اور کورٹ میں حاضر ہونے سے قاصر رہنے پر مقدمہ کی مکمل فائیل سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے ذریعہ جج کے چیمبر میں روانہ کردی گئی ہے۔ مامڑ پلی ‘ مہیشورم موقوفہ اراضی معاملہ میں ریاست میں برسراقتدار سیاسی جماعت کے ایک رکن اسمبلی کے علاوہ مرکزی حکومت کے ایک سابق وزیر کے ملوث ہونے کے سبب تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے ہائی کورٹ میں مقدمہ کی مؤثر پیروی نہیں کی تھی اور اب سپریم کورٹ میں اختیار کئے گئے مؤقف پر بھی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اورکہا جا رہاہے کہ سیاسی اثرو رسوخ کی بناء پر اس مقدمہ میں شکست کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ تحقیق پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جن وکلاء کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں ان وکلاء کو فیس کی عدم ادائیگی کے سبب وہ مقدمہ کی پیروی کے لئے حاضر نہیں ہورہے ہیں جبکہ وقف بورڈ کا کہناہے کہ 40 خصوصی درخواست مرافعہ کے ادخال کے لئے سپریم کورٹ کے وکیل کو 15لاکھ روپئے ادا کئے جاچکے ہیں۔م