تلنگانہ وقف بورڈ کو وصول ہونے والی درخواستوں کی یکسوئی کی ہدایت

   


درخواست گذاروں کو تکلیف نہ دینے کا مشورہ ، صدر نشین بورڈ محمد مسیح اللہ خاں
حیدرآباد۔2۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو موصول ہونے والی درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں اور درخواست گذار جو درخواستیں داخل کر رہے ہیں ان کو بار بار بورڈ کے چکر کاٹنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ وقف بورڈ کو موصول ہونے والی شکایات کے حل میں تاخیر نہ کی جائے۔ صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے وقف بورڈ میں موجود تمام شعبہ جات کے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی یقینی بنائیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ میں اوقافی املاک کے تحفظ کے ساتھ ریاستی وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ اور اس آمدنی کومنشائے وقف کے مطابق خرچ کرنے کے حق میں ہے اسی لئے وقف بورڈ کی کارکردگی روایتی انداز میں نہ چلائی جائے بلکہ اس میں بہتری لانے کے اقدامات کئے جائیں۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ جو لوگ اوقافی جائیدادو ں پر قبضہ جات کی شکایات کے ساتھ رجوع ہورہے ہیں ان کی شکایات پر اعلیٰ عہدیداروں کے احکام کا انتظار کرنے کے بجائے فوری قبضوں کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں علاوہ ازیں جو تولیت کمیٹی ‘ انتظامی کمیٹی کے علاوہ دیگر درخواستوں کی یکسوئی جس میں بورڈ کی منظوری لازمی ہو اسے بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈہ میں شامل کرنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔انہو ںنے بتایا کہ اوقافی املاک پر کئے گئے قبضوں کے معاملات جو عدالت میں زیر دوراں ہیں ان کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے روایتی انداز میں مقدمات کی پیروی کے بجائے ماہر وکلاء کی خدمات کے حصول کے سلسلہ میں اقدامات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے وقف بورڈ کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق درخواستوں کی یکسوئی اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی ہدایات اور وقف بورڈ کے فیصلوں کے مطابق درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی اور اہم جائیدادوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ وقف بورڈ میں موجود شعبہ جات کو متحرک اور کارکرد بنانے کے لئے عہدیداروں کو پابند کیا جا رہاہے اور انہیں تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ وقف کے مفادات کے تحفظ میں کسی بھی طرح کی کوئی مفاہمت نہ کریں بلکہ تحفظ اوقاف اور آمدنی میں اضافہ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کو قابل عمل بنائیں۔م