بورڈ کا ریکارڈ سیکشن بحال نہیں کیا گیا، مقدمات کی پیروی کیلئے مشکلات
حیدرآباد۔7۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل جدید کا ایک سال مکمل ہوگیا اور بورڈ کی تشکیل کے ایک سال میں بورڈ کو جہاں بعض اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے وہیں وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کی کشادگی کے علاوہ معطل عہدیدار کے چیمبر کی کشادگی کے عمل کو مکمل نہیں کیا جاسکا جس کے نتیجہ میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو مقدمات میں درکار دستاویزات کے حصول میں ہونے والی مشکلات سے مسائل پیدا ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کے انتخاب کے ایک سال اور نئے بورڈ کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اس ایک سال کے دوران بورڈ کے ذمہ داروں نے بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لئے انتہائی اہم فیصلہ لیا اور یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کے شعبہ لیگل کی حالت کو بہتر بنانے اور اسٹینڈنگ کونسلس کے علاوہ لاء آفیسرس کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے گئے جس کے نتیجہ میں عدالتوں میں جاری مقدمات میں مؤثر پیروی کی راہ ہموار ہوئی ہے لیکن ِاس کے باوجود اب بھی ریاست میں اہم موقوفہ جائیدادوں کے مقدمات جن میں وقف بورڈ کو شکست ہوئی ہے ان کی سپریم کورٹ میں مؤثر پیروی کے لئے مخصوص افراد پر مشتمل پیانل کو ذمہ داری تفویض کئے جانے پر اب بھی کئی سوالیہ نشان اٹھائے جارہے ہیں۔ عاشور خانہ علی سعد اور سیف نواز جنگ کی کروڑہا روپئے مالیاتی اراضیات کے مقدمات میں ہوئی ناکامی کے خلاف بورڈ کی تشکیل جدید کے ساتھ ہی سپریم کورٹ میں پیروی کا فیصلہ کیا گیا جو کہ قابل قدر ہے لیکن اگر اس معاملہ میں بھی اگر لینکو ہلز کے مقدمہ کی طرح پیروی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کے مقدمہ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔نومنتخبہ وقف بورڈ کے ایک سال کے دوران بورڈ کا اجلاس دو مرتبہ منعقد ہوپایا جبکہ اس ایک سال کے دوران سابقہ چیف اکزیکیٹیو آفیسر اور بورڈ کے درمیان رسہ کشی جاری رہنے کے سبب زائد از 6ماہ بورڈ کی کارکردگی مکمل طور پر ٹھپ رہی اور اب جبکہ وقف بورڈ میں خدمات انجام دے رہے ویجلنس آفیسر جناب سید خواجہ معین الدین کو انچارج چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی ذمہ داری دی گئی ہے تو اس کے بعد محض ایک اجلاس منعقد ہوپایا ہے اور اس اجلاس کے دوارن تولیت کمیٹیو ں ‘ انتظامی کمیٹیوں کی منظوری کے علاوہ دیگر امور کو قطعیت دی گئی ۔ بورڈ نے گذشتہ ایک برس کے دوران جو کارکردگی انجام دی ہے وہ قابل اطمینان ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ عوام کرسکتے ہیں کیونکہ بورڈ کو 6ماہ کے دوران جن مسائل کا سامنا رہا انہیں حل کیا جانا بورڈ کے اختیار میں نہیں تھا اور اب تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو شعبہ قضأت کے مسائل کا سامنا ہے جو کہ وقف بورڈ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے علاوہ نکاح کے ریکارڈس رکھنے کے علاوہ عائلی امور پر کنٹرول کے اقدامات شامل ہیں۔ نئے وقف بورڈ پر ایک برس کے دوران درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے ٹھیکہ میں دھاندلی کے الزامات کا سامنا ہے جس پربورڈ کی جانب سے یہ دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ 2کروڑ 80 لاکھ کی رقم پر کسی نے بھی ٹنڈر نہیں داخل کیا اسی لئے بورڈ نے یہ ٹھیکہ حوالہ کردیا جس پر عدالت میں مقدمہ زیر دوراں ہے۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اس فیصلہ پر جس میں وقف ایکٹ 1995 کو کمزور کیا گیا ہے خاموشی اختیار نہیں کرے گا بلکہ سپریم کورٹ میں خصوصی مرافعہ داخل کرنے کے علاوہ ازسر نو غور کی درخواست بھی داخل کی جائے گی کیونکہ اس فیصلہ سے اوقافی جائیدادوں کو شدید نقصان کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ ایک برس میں نو منتخبہ بورڈ نے سنگاریڈی ‘ رامچندر پورم‘ حیدرآبادمیں تالہ گڈہ‘ کوکٹ پلی کے علاوہ دیگر علاقوں میں کروڑہا روپئے مالیاتی اراضیات کو اپنے قبضہ میں لیتے ہوئے ان پر جاری تنازعہ پر عدالت سے رجوع ہونے کے اقدامات کئے ۔ ٹمریز کے اقامتی اسکولوں کے لئے حوالہ کردہ جائیدادوں کے فیصلہ کو نومنتخبہ بورڈ کی جانب سے تاحال منظوری نہیں دی گئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ موقوفہ اراضیات کی حوالگی کے فیصلوں کو منظوری دینے کے لئے اراکین آمادہ نہیں ہیں۔ اسی طرح صدرنشین وقف بورڈ نے شخصی دلچسپی لیتے ہوئے شمس آباد میں منہدمہ مسجد کی از سر نو تعمیر کو یقینی بنانے کے علاوہ شہر کے انتہائی قیمتی علاقہ مادھاپور میں مسجد سے متصل اراضی پر کی جانے والی قبضہ کی کوشش کو ناکام بنایا ۔علاوہ ازیں اس ایک سال کی مدت کے دوران کئی مساجد کو آباد کرنے اور ان مساجد کے تحت موجود موقوفہ اراضیات کے ریکارڈس کو یکجا کرتے ہوئے ان پر کئے گئے رجسٹریشن کو منسوخ کروانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں کامیابی کی صورت میں وقف بورڈ کی جائیدادیں قبضہ سے پاک ہونے کا امکان ہے۔م