موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لیے وقف بورڈ کو زکواۃ کی ضرورت ، مولانا سید شاہ ابوالفتح بندی پاشاہ
حیدرآباد۔28 فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی حالت اس قدرابتر ہوچکی ہے کہ خوو وقف بورڈ کے منتخبہ رکن مولانا سید شاہ ابوالفتح بندگی پاشاہ نے یہ استفسار کرنا شروع کردیا ہے کہ آیا تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت موجودہ موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ کو ’’زکواۃ ادا کی جاسکتی ہے‘‘! مولانا سید شاہ ابوالفتح بندگی پاشاہ نے وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کی جانب سے عدالت میں تصاویر پیش کرنے کے لئے پیسے نہ ہونے اور خود ان کی فیس ادا نہ کئے جانے کے سلسلہ میں کی گئی شکایت کو بنیاد بنانے کے علاوہ دو اہم موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ میں بورڈ کی عدالت میں ناکامی کا حوالہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اراکین بورڈ اور صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ کو اس بات سے واقف کروائیں کہ ان کے پاس عدالتی اخراجات اور موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے بھی مالیہ موجود نہیں ہے۔ انہو ںنے چیف اکزیکٹیو آفیسر کو روانہ کردہ تفصیلات میں کہا کہ اگر سی ای او اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تلنگانہ وقف بورڈ اس قدر کنگال ہوگیا کہ بورڈ اپنے قانونی اخراجات کی پابجائی کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہے تو وہ ایسی صورت میں تلنگانہ وقف بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے ’’زکواۃ‘‘ کی وصولی کے لئے مہم کا آغاز کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تلنگانہ وقف بورڈ کو پہلی مرتبہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اختیار کردہ رویہ اور ایک ہی عہدیدارکی برقراری کے ذریعہ وقف بورڈ کے امور چلانے کی کوشش کے نتیجہ میں اس طرح کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے کیونکہ مذکورہ عہدیدار ان کے خلاف دائر کئے جانے والے مقدمات میں لاکھوں روپئے فیس حاصل کرنے والے وکلاء کی خدمات حاصل کر رہے ہیں جبکہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اسٹینڈنگ کونسل پر انحصار کیا جا رہاہے اور وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کی فیس جاری کرنے میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے۔حکومت تلنگانہ کے جی اے ڈی (کابینہ) امور نے چیف اکزیکٹیو آفیسر کے عہدہ پر جوائنٹ سیکریٹری کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے عہدیدار کے تقرر کو ناگزیر قراردیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے محمد اسداللہ اڈیشنل کلکٹر کے عہدہ کوجوائنٹ کلکٹر کے مساوی ہونے یا نہ ہونے کی وضاحت طلب کی تھی اور جی اے ڈی (کابینہ ) نے U.O.Note.No.110/Cabinet/A1/2025 جاری کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کردی کہ اڈیشنل کلکٹر کا عہدہ کسی بھی اعتبار سے جوائنٹ سیکریٹری کے مساوی نہیں ہے اور وقف قوانین 2025 کی دفعہ 23 میں اس بات کا لزوم عائد کیا گیا ہے کہ چیف اکزیکٹیو کے عہدہ پر جوائنٹ سیکریٹری کے رتبہ کا حامل شخص ہونا چاہئے ۔3