تلنگانہ کا خزانہ خالی کرنے والے شخص کو کانگریس حکومت پر تنقید کا حق نہیں : ریونت ریڈی

   

کے سی آر اقتدار سے محرومی کے بعد عدم تحفظ کے احساس کا شکار، مقدمات میں قانون کے مطابق کارروائی
ارکان اسمبلی حیدرآباد کے بجائے حلقوں میں وقت گزاریں، عہدے پانے بیان بازی کی بجائے صبر و تحمل کا مشورہ

حیدرآباد 28 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس کی سلور جوبلی تقاریب کے موقع پر سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی تقریر پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہاکہ تلنگانہ کے خزانہ کو خالی کرنے والے شخص کو حکومت پر تنقید کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ کے موجودہ معاشی بحران کے لئے کے سی آر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ کے سی آر اقتدار سے محرومی کے نتیجہ میں بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور اُن کی باتوں پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر نے اقتدار سے محرومی کی اپنی بوکھلاہٹ کو حکومت کے خلاف برہمی کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر نے تلنگانہ کا خزانہ خالی کیا لیکن آج حکومت پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ عوام بی آر ایس پر دوبارہ بھروسہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر دراصل عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں اور اُن کی تقریر میں تسلسل اور وضاحت نہیں ہے۔ ریاست میں دوبارہ اقتدار سے متعلق کے سی آر کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا عملاً صفایا ہوچکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چیف منسٹر نے کہاکہ راہول گاندھی اور اُن کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ بعض گوشوں کی جانب سے اِس بارے میں پھیلائی جارہی خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راہول گاندھی سے میرے روابط کے بارے میں مجھے دنیا کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور کے سی آر موقع پرستی کے مظاہرہ میں ماہر ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی بات تبدیل کرتے ہیں۔ پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کے پس منظر میں پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ ملک کو اندرا گاندھی جیسے وزیراعظم کی ضرورت ہے جنھوں نے چین اور پاکستان دونوں کو سبق سکھایا تھا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ کانگریس ارکان اسمبلی کو عوام کے درمیان رہتے ہوئے حکومت کی اسکیمات کی بہتر انداز میں تشہیر کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ارکان اسمبلی دیہاتوں تک پہنچیں تو اُن کے ساتھ اسکیمات بھی عوام تک پہنچیں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی میں صبر و تحمل کے مظاہرہ کے ذریعہ ہی عہدے حاصل کئے جاسکتے ہیں اور جلد بازی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ اُنھوں نے ادنکی دیاکر کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کا وعدہ کیا تھا اور اِس وعدے کو پورا کیا۔ قائدین کی بیان بازی کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ من مانی بیان بازی کرنے والے قائدین کو نقصان ہوگا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ وہ سیاسی حریفوں کے خلاف انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتے۔ فون ٹیاپنگ معاملہ اور دیگر معاملات میں کے ٹی آر اور دیگر بی آر ایس قائدین کے خلاف مقدمات قانون کے مطابق درج کئے گئے ہیں۔ کے سی آر کی طرح میں قانون کا بیجا استعمال کرتے ہوئے گرفتار کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ اُنھوں نے کہاکہ جلسہ عام کے لئے کے سی آر نے جتنی تعداد میں آر ٹی سی بسوں کی درخواست کی تھی، اُتنی بسیں حکومت نے فراہم کی ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت میں راہول گاندھی کے جلسہ عام کیلئے اُس وقت کی حکومت نے بسوں کی فراہمی سے انکار کردیا تھا۔ اسمبلی اجلاس میں عدم شرکت اور حکومت کا بی آر ایس کے ’’بچوں‘‘ کی جانب سے سامنا کرنے سے متعلق کے سی آر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے سوال کیاکہ بچوں کے بجائے خود کے سی آر ایوان میں آکر حکومت کا سامنا کرنے سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ چیف منسٹر نے پارٹی ارکان اسمبلی کو انتباہ دیا کہ وہ حیدرآباد میں وقت گزارنے کے بجائے اپنے حلقہ جات میں زیادہ وقت عوام کے درمیان گزاریں تاکہ حکومت کی فلاحی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری ہوسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی یا حکومت میں عہدے حاصل کرنے کیلئے صبر و تحمل ضروری ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اقتدار سے محرومی کے بعد کے سی آر عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔ میرے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے کے دوسرے ہی دن کے سی آر کے قلب پر حملہ ہوا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ وہ مزید 20 سال تک عملی سیاست میں رہیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ کسی بھی مقدمہ میں حکومت کی کوئی مداخلت نہیں ہے اور قانون اپنا کام کررہا ہے۔ کے سی آر نے اپنے دور میں حریفوں کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے اُنھیں جیل بھیج دیا تھا۔ بی آر ایس قائدین گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن حکومت قانون کے مطابق کام کرے گی۔1