تلنگانہ کابینہ دو گروپس میں منقسم : ہریش راؤ

   

ریاست میں گن کلچر کو فروغ ، کیا حاصل کیا گیا اور کیوں جشن منایا جارہا ہے ، حکومت سے استفسار
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے سنسنی خیز ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی کابینہ دو گروپس میں تقسیم ہوگئی ہے ۔ ان دو سال کے دوران کیا حاصل کیا گیا ہے اور کیوں جشن منایا جارہا ہے ۔ اس کی ریاست کے عوام سے وضاحت کرنے کا چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ دریائے کرشنا اور گوداوری کے پانی میں تلنگانہ کی حصہ داری کے لیے کے سی آر نے جدوجہد کی تھی ۔ تاہم کانگریس کے قائدین کمیشن میں حصہ داری کیلئے جھگڑا کررہے ہیں ۔ وزراء ایک دسرے کے خلاف برسر عام الزامات عائد کررہے ہیں یہاں تک کہ کل سکریٹریٹ میں منعقدہ کابینہ اجلاس بھی ایک دوسرے کے خلاف تنقیدوں کے نظر ہوگیا ہے ۔ ریاستی وزراء دو گروپس میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر ریاست میں گن کلچر کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ۔ ریاستی وزیر کونڈا سریکھا کی دختر نے ہی یہی بات میڈیا کے ذریعہ عوام کو بتائی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ دسمبر میں حکومت نے دو سال کی تکمیل پر جشن منانے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ چیف منسٹر سے استفسار کرتے ہیں کیوں جشن منایا جارہا ہے ۔ دو برسوں کے دوران کیا حاصل کیا گیا ہے ۔ کانگریس حکومت میں بدعنوانیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں ۔ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں 6 ضمانتوں کے علاوہ 420 وعدے کئے ۔ ایک وعدے کو پورا کرنے میں بھی ریونت ریڈی حکومت کامیاب نہیں ہوئی ۔ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے معاوضہ دینے میں حکومت ناکام ہوگئی ۔ ایک تولہ سونا ، 4000 روپئے ماہانہ بیروزگاری بھتہ دینے کے وعدوں کو پورا کرنے میں حکومت ناکام ہوگئی ۔ پھر کیوں جشن منایا جارہا ہے ۔ حکومت سے سوال کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ عوام کیلئے تلنگانہ بھون کے دروازے کھلے رہیں گے ۔۔ 2