حیدرآباد 9 جو ن ( یو این آئی)تلنگانہ کانگریس کے 12ارکان اسمبلی کے گروپ کو حکمران جماعت ٹی آرایس میں غیر جمہوری طور پر ضم کرنے کے خلاف کانگریس مقننہ پارٹی لیڈر ملو بھٹی وکرامارکا کا مرن برت دوسرے دن میں داخل ہوگیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈران بشمول اے آئی سی سی کے انچارج آر سی کنتیا،تلگودیشم اور تلنگانہ جناسمیتی کی موجودگی میں انہوں نے اس بھوک ہڑتال کا گزشتہ روز آغاز کیا تھا۔ اندراپارک دھرنا چوک پر شروع اس بھوک ہڑتال کے موقع پر ان لیڈران نے کہاکہ کانگریس کے 12اراکین اسمبلی کے گروپ کو ٹی آرایس میں شامل کرنا جمہوریت کا قتل ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو پر انحراف کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ اپوزیشن کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں حکمران جماعت ٹی آرایس نے 88،کانگریس نے 19،مجلس نے 7،بی جے پی نے ایک اور تلگودیشم نے دو نشستوں پرکامیابی حاصل کی تھی تاہم تلگودیشم کے ایک رکن اسمبلی ٹی آرایس میں شمولیت کا اعلان کیاتھا۔مارچ سے کانگریس کے 11ارکان اسمبلی نے بالاخر حکمران جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا تاہم جمعہ کو ایک اور کانگریسی رکن اسمبلی نے بھی ٹی آرایس میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اس طرح کانگریس کے 12ارکان اسمبلی ٹی آرایس میں شامل ہوگئے جنہوں نے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کو ہی ٹی آرایس میں ضم کرنے کی اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی سے نمائندگی کی۔اس نمائندگی کو قبول کرتے ہوئے اسپیکر نے سی ایل پی کو ہی ٹی آرایس میں ضم کرنے کا اعلان کیا اور اس خصوص میں احکامات جاری کئے ۔
