تلنگانہ کانگریس کی سرگرمیاں دہلی منتقل ، راہول گاندھی نے کمان سنبھال لی

,

   

گریٹر حیدرآباد کے 24 حلقوں پر خاص توجہ ۔ کئی قائدین کا پارٹی سے رابطہ
ناراض قائدین کو منانے کی ذمہ داری ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک شیو کمار کو سونپی گئی

حیدرآباد : /2 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں سیاسی ماحول کانگریس کیلئے سازگار ہونے کی رپورٹس ملنے کے بعد راہول گاندھی خود میدان میں کود پڑے ہیں اور سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ ریاست میں کسی بھی طرح کانگریس کے اقتدار کو یقینی بنانے سارے سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ بالخصوص کانگریس نے جن 6 گیارنٹی کا اعلان کیا ہے اس کو گھر گھر تک پہنچانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔ پارٹی امیدوار کے اعلان میں سماجی توازن کو برقرار رکھنے پارٹی امیدواروں کے اعلان کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والے امکانی ناراضگی کو بڑی حد تک کنٹرول کرنے ، انتخابی منصوبہ بندی ، دوسری جماعتوں کی حکمت عملی کا منہ توڑ دینا ، دوسری جماعتوں کے قائدین کو پارٹی ٹکٹ دینا اور کامیاب انتخابی مہم پر خاص توجہ دی جارہی ہے ۔ پارٹی قائدین کی ناراضگیوں کو دور کرنے کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کیشو کمار کو ٹربل شوٹر کے طور پر استعمال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ کانگریس کی تمام سرگرمیاں دہلی منتقل ہوچکی ہیں ۔ راہول گاندھی نے پارٹی کے سینئر قائدین کو دہلی طلب کرکے انہیں آپسی اختلافات کو فراموش کرکے بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے ایک پلیٹ فارم پر اتحاد کا ثبوت دینے پر زور دیا ۔ پارٹی کے اہم قائدین سے ان کے سفارشی امیدواروں کی فہرست طلب کرلی ہے اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے حامیوں کو ٹکٹ دلانے دہلی میں لابئینگ بند کردیں اور عوام کے درمیان پہونچ کر کانگریس کے 6 گیارنٹی کی بڑے پیمانے پر تشہیر کریں ۔ جہاں تک امیدواروں کے انتخاب کا معاملہ ہے ۔ کانگریس سیاسی حکمت عملی تیار کرنے والے سنیل کنگولوکی ٹیم سروے کررہی ہے ۔ عوامی مقبولیت رکھنے والے قائدین کو ہی انتخابی میدان میں اُتارا جائے گا ۔ امیدواروں کے انتخاب میں راہول گاندھی نے اسکریننگ کمیٹی ارکان سے تبادلہ خیال کے بعد تلنگانہ کانگریس صدر اے ریونت ریڈی کو دہلی طلب کرکے تفصیلی بات چیت کی ہے ۔ کانگریس میں شمولیت کے خواہاں دوسری پارٹیوں کے قائدین کی ایک فہرست ریونت ریڈی نے راہول گاندھی کو پیش کردی ہے ۔ سنیل کنگولوکی ٹیم اُن سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد کے 24 اسمبلی حلقوں میں جہاں کانگریس کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ، ایم ہنمنت راؤ کی کانگریس میں شمولیت کے بعد حالات تبدیل ہوگئے ہیں ۔ کانگریس زیادہ حلقوں پر کامیابی کیلئے تیاری کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے مختص اسمبلی حلقوں کیلئے بھی علحدہ منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے ۔ کانگریس ہائی کمان کو سروے میں یہ اطلاعات ملی ہیں کہ اضلاع کھمم ، نلگنڈہ ، محبوب نگر ، عادل آباد میں بہت مضبوط و طاقتور ہے ۔ ماباقی دیگر حلقوں میں بی آر ایس سے ٹکر کا مقابلہ ہے مگر وہاں کانگریس کمزور بھی نہیں ہے ۔ آل انڈیا کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال کو بی سی طبقات سے رابطہ میں رہنے ٹکٹ کے مسئلہ پر جو بھی ناراضگیاں ہیں اس کو دور کرکے اتحاد پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ پارٹی میں طویل عرصہ سے سرگرم قائدین اگر سماجی انصاف کے معاملے میں ٹکٹ سے محروم ہورہے ہیں تو حکومت تشکیل دینے کے بعد ان سے انصاف کا تیقن دیا جائے ۔ جس کے بعد وینو گوپال بی سی قائدین سے رابطہ بنائے ہیں ، ساتھ ہی جو دعویدار قائدین ٹکٹ سے محروم ہورہے ہیں انہیں دہلی طلب کرکے بات کی جارہی ہے ۔ چند قائدین پارٹی فارمولے سے متفق ہیں چند قائدین ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ انہیں مختلف عہدے دینے وعدے کئے جارہے ہیں ۔ اقتدار حاصل کرنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ 60 سے زائد حلقوں میں امیدواروں کی فہرست کو قطعیت دے دی گئی ہے ۔ بی آر ایس اور بی جے پی سے چند قائدین کانگریس سے رابطہ میں ہے ۔ لہذا ماباقی فہرست کی تیاری پر انتظار کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے ۔