ڈسمبر میں کانگریس حکومت کی خوشخبری، مجلسی قیادت کے غیر واضح موقف پر تنقید ، کے سی آر کو آرام کا مشورہ
حیدرآباد ۔9۔اکتوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ 30 نومبر کو تلنگانہ ریاست کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی اور ڈسمبر میں عوام کیلئے کانگریس زیر قیادت نئی حکومت کے خوشخبری رہے گی ۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ 30 نومبر کو کے سی آر خاندان سے تلنگانہ عوام کو نجات ملے گی۔ کانگریس پارٹی نے 9 ڈسمبر 2009 ء کو علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کا اعلان کیا تھا ، اسی طرح جاریہ سال ڈسمبر میں کانگریس حکومت کی عوام کیلئے نئی خوشخبری رہے گی ۔ تلنگانہ عوام تبدیلی کے حق میں فیصلہ کرچکے ہیں اور سونیا گاندھی کی جانب سے اعلان کردہ 6 ضمانتوں کی عوام تائید کریں گے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام کو یہ یقین ہوچکا ہے کہ تلنگانہ میں ان کے اچھے دن آئیں گے ۔ 30 نومبر کو عوام کا فیصلہ ریاست کی بھلائی کے حق میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو آنے والا وجئے دشمی جوش و خروش کے ساتھ منانا چاہئے کیونکہ کانگریس کی 6 ضمانتیں عوام کی زندگی میں نئی روشنی پیدا کریں گی ۔ ریونت ریڈی نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو رنگا اور بلا سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ شکست کے خوف سے کانگریس کے خلاف بیان بازی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف اہانت آمیز بیانات دیئے جارہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو کانگریس دور حکومت اور بی آر ایس دور حکومت میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہیدان تلنگانہ کی یادگار پر مباحث کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خاندان نے 10 ہزار ایکر اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے کئی لاکھ کروڑ کی لوٹ مچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ اور شہیدان تلنگانہ کی یادگار کی تعمیر میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں کی گئیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی 6 ضمانتوں کے اعلان کے بعد کے سی آر کو بخار آگیا۔ اب وقت آچکا ہے کہ کے سی آر آرام کریں اور انہیں فارم ہاؤز سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی 6 ضمانتوں سے سماج کے تمام طبقات کی خوشحالی ہوگی ۔ ریونت ریڈی نے حیرت کا اظہار کیا کہ بی جے پی اور بی آر ایس پر تنقید سے اسد اویسی اور اکبر اویسی چراغ پا کیوں ہیں؟ انہیں اس بات کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ آخر کس کے ساتھ ہیں۔ بی جے پی اور بی آر ایس پر کانگریس کو اقتدار سے روکنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی جے پی 2018 ء میں یہی سازش کی تھی اور 105 حلقہ جات میں ضمانت ضبط ہوگئی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان فیویکال بندھن ہے جسے عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سیکولر طاقتوں کے ساتھ ہے یا پھر فرقہ پرستوں کے آلہ کار رہیں گے۔