lآل انڈیا کوٹہ میں گذشتہ تین سال کے دوران 1500 طلبہ کا داخلہ
lتلنگانہ کے طلبہ کی دیگر ریاستوں پر عدم دلچسپی ، ہر سال تقریبا 400 نشستوں کا نقصان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں ایم بی بی ایس کی نشستیں شمالی ہند کے طلبہ کے لیے ایک نعمت بن گئی ہے ۔ آل انڈیا کوٹہ میں آپشن کے طور پر ریاست کا انتخاب کررہے ہیں ۔ ہر سال تقریبا 500 طلبہ یہاں کے گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں داخلہ لے رہے ہیں۔ کالوجی ہیلت یونیورسٹی کے ذریعہ سے پتہ چلا ہے کہ گذشتہ تین سال سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے ۔ اس وقت شمالی ہند کے ریاستوں راجستھان ، اترپردیش ، ہریانہ ، پنجاب کے 1500 سے زیادہ طلبہ تلنگانہ میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ تین سال کے دوران 25 گورنمنٹ کالجس قائم ہوئے ہیں جس کے ساتھ سرکاری کالجس میں ایم بی بی ایس کی نشستیں بڑھ کر 4115 تک پہونچ گئی ہے ۔ تاہم ان میں سے 15 فیصد یعنی 617 نشستیں آل انڈیا کوٹہ میں مختص ہورہی ہیں ۔ جس میں ملک بھر سے کوئی بھی قسمت آزمائی کرسکتے ہیں ۔ آل انڈیا کوٹہ نہیں ہوتا تو ساری نشستیں ہمارے طلبہ کو حاصل ہوتی تھی ۔ آل انڈیا کوٹہ میں شامل ہونے سے ہمیں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہورہا ہے ۔ ہندی کا علم نہ ہونے اور مناسب خوراک نہ ملنے سے ہمارے زیادہ تر بچے بالخصوص لڑکیاں اور ان کے والدین شمالی ہند کے میڈیکل کالجس میں داخلہ لینے سے گریز کررہے ہیں ۔ والدین بھی اپنے بچوں کو ملک کے دیگر ریاستوں اور شہروں کو پڑھنے بھیجانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ چند طلبہ آندھرا پردیش میں بھی ایم بی بی ایس کی نشست ملنے پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ قریب کے میڈیکل کالجس میں داخلہ لینے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔ جس کی وجہ تلنگانہ کے طلبہ آل انڈیا کوٹہ پر زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں ۔ طبی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ہماری ریاست کے طلبہ کے رینکس کے مطابق کم از کم 500 تا 600 طلبہ آل انڈیا کوٹہ کی کونسلنگ میں حصہ نہیں لے رہے ہیں ۔ جس سے ریاست کے دوسرے طلبہ کو داخلوں میں نقصان ہورہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے 25 گورنمنٹ میڈیکل کالجس قائم کئے گئے ہیں ۔ گذشتہ پانچ تا چھ سال کے دوران حیدرآباد کے اطراف و اکناف 10 تا 15 نئے خانگی کالجس قائم ہوئے ہیں اس کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 10 اور 50 کلو میٹر کی دوری پر مزید 10 خانگی کالجس قائم ہوئے ہیں دیگر ریاستوں کے طلبہ حیدرآباد کے اطراف و اکناف کے کالجس میں داخلے لینے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔۔ 2