جوپلی کرشنا راؤ اور پی سرینواس کے سیاسی مستقبل پر تجسس برقرار
حیدرآباد۔6۔جون۔(سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں ضلع کھمم کے قائدین کی اہمیت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے اور بی آر ایس سے برطرف دونوں قائدین جوپلی کرشنا راؤ اور پی سرینواس کی جانب سے اپنے سیاسی مستقبل پر اختیار کردہ خاموشی اور ان قائدین سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے رابطہ اور انہیں اپنی سیاسی جماعت میں شامل کروانے کی کوششوں کے دوران کی جانے والی قیاس آرائیوں کے دوران کہا جارہا ہے کہ دونوں قائدین فوری طور پر اپنے مستقبل کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ آئندہ ایک ماہ تک وہ ریاست کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔دونوں ہی قائدین نے واضح کیا کہ وہ ریاست میں کے سی آر کے خلاف اور انہیں شکست سے دوچار کرنے کے لئے کسی بھی پارٹی کے ساتھ جاسکتے ہیں اور ان کا مقصد بی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ اسی طرح پروفیسر کوڈنڈا رام تلنگانہ جنا سمیتی نے بھی اپنی پارٹی کے اجلاس کے دوران اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ بی آر ایس کو شکست دینے کے لئے کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد بلکہ انضمام کے لئے تیار ہیں ۔ تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی کو شکست دینے کے لئے کھمم کے دونوں قائدین کی اہمیت میں اضافہ کی کئی ایک وجوہات ہیں کیونکہ جوپلی کرشنا راؤ اور پی سرینواس کو بھارتیہ جنتا پارٹی ‘ کانگریس اور وائی ایس آر ٹی پی نے اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی پیشکش کررکھی ہے اور دونوں ہی قائدین نے کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ ابتداء میں کہا جارہا تھا کہ کرناٹک کے انتخابی نتائج کے فوری بعد ضلع کھمم کے قائدین اپنے فیصلہ سے واقف کروائیں گے لیکن ان قائدین کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے جاری ملاقاتیں برسراقتدار جماعت کے قائدین کو متفکر کئے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق جاریہ ماہ کے اواخر تک ضلع کھمم کے قائدین کی جانب سے سیاسی مستقبل کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔واضح رہے کہ مسز وائی ایس شرمیلا کی پارٹی کا بھی کھمم میں اثر دیکھتے ہوئے وہ بھی ان دونوں قائدین سے رابطہ میں ہیں تاکہ انہیں وائی ایس آر ٹی پی میں شامل کروانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔م