آئندہ ماہ اعلامیہ کی اجرائی، بلدی انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کیلئے اہم چیلنج، کانگریس اور بی جے پی بھی سرگرم
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں گریجویٹ زمرہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کیلئے توقع ہے کہ انتخابی اعلامیہ فروری کے پہلے ہفتہ میں جاری کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے دوباک و گریٹر حیدرآباد کے نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھمم ، ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات سے قبل گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں کے انتخاب کا فیصلہ کیا ۔ دونوں نشستوں کیلئے ٹی آر ایس، کانگریس کے علاوہ بی جے پی نے سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ ایم ایل سی پی راجیشور ریڈی کے نام کو نلگنڈہ، ورنگل اور کھمم نشست کیلئے ٹی آر ایس نے قطعیت دی ہے۔ چیف منسٹر بہت جلد امیدواروں کا اعلان کریں گے۔ ایم ایل سی نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ ٹی آر ایس بلدی انتخابات میں ووٹرس کو مثبت پیام دینا چاہتی ہے تاکہ حیدرآباد کی طرح بی جے پی کو سبقت حاصل نہ ہو۔ نلگنڈہ ، ورنگل اور کھمم کے علاوہ حیدرآباد ، رنگاریڈی و محبوب نگر ایم ایل سی نشستوں پر کامیابی کیلئے قائدین کو متحرک کردیا گیاہے۔ توقع ہے کہ الیکشن کمیشن جلد انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کردے گا۔ بی جے پی دونوں ایم ایل سی نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر نشست پہلے سے اس کے قبضہ میں ہے جبکہ دوسری نشست پر نوجوانوں کی تائید سے کامیابی حاصل کی جائیگی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو ایم ایل سی کے علاوہ کارپوریشنوں کے انتخابات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ نلگنڈہ کی ناگرجنا ساگر اسمبلی نشست کا ضمنی چناؤ بھی ٹی آر ایس کیلئے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ کانگریس امیدوار کی حیثیت سے جانا ریڈی مقابلہ کریں گے جنکے مقابلہ میں دونوں پارٹیوں کے پاس مضبوط امیدوار نہیں ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کھمم، ورنگل اور نلگنڈہ ایم ایل سی نشست کیلئے پرمیندر ریڈی کے نام کو قطعیت دی ہے۔ کانگریس نے راملو نائیک، کے مانوتا رائے، ڈی شراون ، بلیا نائیک اور بعض دیگر ناموں کی ہائی کمان سے سفارش کی ہے۔ اسی دوران تلنگانہ جنا سمیتی سربراہ پروفیسر کودنڈا رام نے ورنگل ، کھمم و نلگنڈہ کونسل کی نشست کیلئے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ وہ تینوں اضلاع کا دورہ کرکے سرکاری اور خانگی ٹیچرس، لکچررس ، طلبہ و پروفیسرس سے ربط قائم کررہے ہیں۔ کودنڈا رام کے علاوہ ایک اور پروفیسر حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر سے امیدوار بن سکتے ہیں۔ پروفیسر ناگیشورراؤ نے آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں کے انتخابی میدان میں قدم رکھنے سے ایم ایل سی انتخابات اہم پارٹیوں کیلئے چیلنج بن سکتے ہیں۔ ٹی آر ایس نے پروفیسر ناگیشور راؤ کو امیدوار بنانے کی مساعی کی تھی تاہم وہ تیار نہیں ہوئے۔ پروفیسر ناگیشور راؤ 2009 میں بی جے پی کے این رامچندر راؤ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرچکے ہیں جبکہ 2015 میں رامچندر راؤ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ رامچندر راؤ کی میعاد29 مارچ کو ختم ہورہی ہے ۔ توقع ہے کہ 22 جنوری کو دونوں حلقوں کی ووٹر لسٹ جاری کردی جائے گی۔ اس حلقہ کیلئے کانگریس نے اندرا شوبھن، ومشی چندریڈی اور چنا ریڈی کے ناموں کی سفارش کی ہے۔2007 میں اس حلقہ سے تلگودیشم ٹکٹ پر مقابلہ کرچکے پی ایل سرینواس اس بار ٹی آر ایس سے ٹکٹ کی کوشش میں ہیں۔ ان کے علاوہ میئر بی رام موہن ، چیف منسٹر کے سکریٹری ڈی سرینواس اور سابق این جی اوز لیڈر دیوی پرساد کا نام بھی ٹی آر ایس حلقوں میں زیر گشت ہے۔