608 پرچہ جات مسترد، گجویل میں سب سے زیادہ 114 امیدوار، سب سے کم 7 امیدوار نارائن پیٹ میں
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے پرچہ جات نامزدگی کی جانچ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تلنگانہ کی 119 اسمبلی نشستوں کیلئے 2898 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان نشستوں کیلئے جملہ 4798 امیدواروں نے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے تھے۔ پیر کے دن پرچہ جات کی جانچ میں609 پرچہ جات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔ جانچ کے بعد 2898 امیدوار میدان میں ہیں۔ گجویل میں سب سے زیادہ 114 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں جہاں سے چیف منسٹر کے سی آر امیدوار ہیں۔ میڑچل میں 67 ، کاماریڈی 38 اور ایل بی نگر میں 50 امیدوار میدان میں ہیں۔ ریونت ریڈی کے حلقہ کوڑنگل سے 15 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں۔ سب سے کم امیدوار نارائن پیٹ اسمبلی حلقہ میں ہیں جہاں 7 امیدوار ہیں۔ بالکنڈہ میں 9 امیدواروں کے پرچہ جات نامزدگی درست پائے گئے۔ پرچہ جات نامزدگی چہارشنبہ تک واپس لئے جاسکتے ہیں۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ کھمم کے بی آر ایس امیدوار پی اجئے کمار کے حلفنامہ پر کانگریس کے اعتراضات کو مسترد کردیا گیا۔ دیورکدرہ اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار مدھو سدن ریڈی کے دونوں اسمبلی حلقہ جات میں نام کی موجودگی سے متعلق شکایت کا ریٹرننگ آفیسر نے جائزہ لیا اور کہا کہ امیدوار نے کمیشن کو پہلے ہی ایک نام حذف کرنے کی درخواست دی ہے لہذا پرچہ نامزدگی کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ پالاکرتی میں کانگریس امیدوار کے تین علحدہ اڈریس ہونے کی بی آر ایس نے شکایت کی۔ ریٹرننگ آفیسر نے کہا کہ امیدوار کے تین مختلف اڈریس ہوسکتے ہیں لیکن اعتراض کو خارج کردیا گیا۔ عالمپور میں بی آر ایس امیدوار کے سرکاری ملازم ہونے اور استعفی کے بغیر ہی پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے اعتراض کو مسترد کردیا گیا۔ اسی دوران پرچہ جات نامزدگی کی جانچ میں چیف منسٹر کے سی آر، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور بی جے پی رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کے پرچہ جات نامزدگی دونوں اسمبلی حلقہ جات سے درست پائے گئے۔ تینوں قائدین 2 حلقوں سے مقابلہ کررہے ہیں۔ ریٹرننگ آفیسر نے ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ میں سابق وزیر کے جانا ریڈی اور حضور آباد اسمبلی حلقہ میں ایٹالہ راجندر کی اہلیہ جمنا کا پرچہ نامزدگی مسترد کردیا۔ تکنیکی خامیوں کے سبب یہ پرچہ جات مسترد کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست بھر میں بی ایس پی امیدواروں کے پرچہ جات مسترد کئے گئے۔ بی ایس پی نے الزام عائد کیا کہ پرچہ جات میں تصحیح کا موقع دیئے بغیر ہی الیکشن کمیشن نے پرچہ جات نامزدگی مسترد کردیئے۔