تلنگانہ کے 6 آبپاشی پراجکٹس کی رپورٹ سنٹرل واٹر کمیشن میں پیش کرنے کا مطالبہ، گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کو تلنگانہ حکومت کا مکتوب

   

حیدرآباد۔4۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ 6 لفٹ اریگیشن پراجکٹ سے متعلق داخل کردہ رپورٹ کو سنٹرل واٹر کمیشن سے رجوع کیا جائے تاکہ پراجکٹس کو کلیئرنس حاصل ہوسکے۔ بورڈ کے صدرنشین کو تلنگانہ کے انجنیئر ان چیف سی مرلیدھر نے مکتوب روانہ کیا جس میں مرکزی وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت کے تیقن کا حوالہ دیا گیا ۔ تلنگانہ کی جانب سے مختلف اضلاع میں 6 لفٹ اریگیشن پراجکٹ کے قیام کیلئے اجازت کے طور پر رپورٹ گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کی ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ تمام پراجکٹس 2010 ء سے کارکرد ہیں اور متحدہ آندھراپردیش کی حکومت نے آغاز کیا تھا۔ تلنگانہ حکومت نے ری ڈیزائیننگ کرتے ہوئے تعمیری کاموں میں بعض تبدیلیاں کی ہیں جس کی منظوری سنٹرل واٹر کمیشن سے ضروری ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کو پراجکٹس پر اعتراضات کی گنجائش اس لئے نہیں کیونکہ یہ 2014 ء سے قبل کے پراجکٹس ہیں۔ واضح رہے کہ مرکز نے کرشنا اور گوداوری دریاؤں پر موجود تمام آبپاشی پراجکٹس کا کنٹرول ریور مینجمنٹ بورڈس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن دونوں حکومتیں فوری طور پر پراجکٹس حوالے کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش نے ایک دوسرے کے پراجکٹس کے خلاف گرین ٹریبونل اور ریور مینجمنٹ بورڈ سے شکایت کی ہے۔ ر