ایک کروڑ 30 لاکھ خاندانوں کو لائف انشورنس، سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو مفت ٹرانسپورٹ کی عنقریب فراہمی
حیدرآباد ۔13 ۔ مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت 60 لاکھ افراد کا صحت سے متعلق ڈیٹا تیار کر رہی ہے اور انہیں جلد ہی ڈیجیٹل ہیلت کارڈ جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست کے ایک کروڑ 30 لاکھ خاندانوں کو لائف انشورنس کی فراہمی کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں غریبوں کو مفت طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جاریہ سال آروگیہ شری اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے تحت 1800 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہیلت ڈیٹا آروگیہ شری اسکیم کے گزشتہ 20 برسوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر تیار کیا جارہا ہے ۔ حکومت کینسر کی روک تھام کیلئے بھی خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے اور کینسر کے ماہر ڈاکٹر نوری دتاتریہ کو حکومت کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے طبی اخراجات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عام آدمی کیلئے سستا علاج حاصل کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ خانگی دواخانوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرس کو ہر سال کم از کم ایک ماہ سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے کا چیف منسٹر نے مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین صحت مند ہوں تو سارا خاندان صحت مند رہتا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ عثمانیہ ہاسپٹل اور ٹمس کی تعمیر کے لئے حکومت 10 ہزار کروڑ خرچ کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی تقریباً 40 فیصد فارماسیوٹیکل اشیاء حیدرآباد میں تیار ہوتی ہے۔ کرونا کی تین ویکسین حیدرآباد میں تیار کی گئیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کیلئے معیاری ناشتہ اور کھانے کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت مفت یا 50 فیصد رعایت کے ساتھ جلد شروع کی جائیگی۔1