عوامی مسائل کی یکسوئی میں دشواریاں، عہدیدار انچارج مقرر
حیدرآباد: تلنگانہ میں 66 ایسے مواضعات ہیں جہاں کوئی سرپنچ نہیں اور حکومت اسپیشل آفیسرس کے ذریعہ مقامی مسائل کی یکسوئی انجام دے رہی ہے۔ کئی مواضعات میں حالیہ پنچایت انتخابات کے موقع پر حکومت کی جانب سے تحفظات کا تعین نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں انتخابات منعقد نہیں ہوئے جبکہ بعض دیگر مواضعات کو قریبی میونسپلٹیز میں ضم کردیا گیا تھا اور بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ انضمام کے فیصلہ کو واپس لینے کے بعد مذکورہ مواضعات میں چناؤ نہیں ہوسکے ۔ بتایا جاتاہے کہ گزشتہ دو برسوں سے 60 مواضعات کے عوام منتخب نمائندوں سے محروم ہیں۔ حکومت نے انتخابات کے انعقاد اور مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں بارہا تیقن دیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ مواضعات کے عوام حکومت سے عاجلانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جنوری 2019 ء میں منعقدہ پنچایت انتخابات میں حکومت نے بعض ایسے گاؤں کو ایس سی اور ایس ٹی کیلئے محفوظ کردیا جہاں ان طبقات کی آبادی نہیں ہے۔ عہدیداروں کی لاپرواہی کے نتیجہ میں اس طرح کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایجنسی علاقوں میں بعض پنچایتوں کو ایس ٹی طبقہ کیلئے محفوظ کیا گیا لیکن وہاں انتخابات کے دوران ایک بھی پرچہ نامزدگی داخل نہیں ہوا۔ بعد میں پتہ چلا کہ مذکورہ پنچایتوں میں ایس ٹی طبقہ کی آبادی نہیں ہے۔