وقف اور سرکاری اراضیات کے حصول کی مساعی، سکریٹری اقلیتی بہبود کا جائزہ اجلاس، فنڈز کیلئے شاہنواز قاسم کی کامیاب نمائندگی
حیدرآباد۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے تلنگانہ میں 77 اقامتی اسکولوں کی نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے فنڈز کی فراہمی سے اتفاق کرلیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود شہر اور اضلاع میں اسکولوں کیلئے اراضیات کی نشاندہی میں مصروف ہے۔ حکومت نے وقف بورڈ کے ذریعہ کھلی اراضی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی لہذا ضلع کلکٹرس کے ذریعہ سرکاری اراضی کے حصول کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مرکزی اسکیم کے تحت اقامتی اسکولوں کیلئے فی کس 20 کروڑ روپئے مختص کئے جائیں گے جبکہ اقامتی ہاسٹلس کیلئے فی کس 2 کروڑ کی منظوری کی تجویز ہے۔ مرکزی اسکیم سے استفادہ کرنے والی تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست بن چکی ہے اور اس اسکیم کی منظوری میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم ( آئی پی ایس ) نے اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے پراجکٹ کی منظوری کیلئے وزارت اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے بارہا ملاقات کی تھی۔ پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کا جائزہ لینے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم ( آئی اے ایس ) نے اجلاس منعقد کیا۔ حکومت کے مشیر اے کے خاں، سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ اور دیگر عہدیدار شریک ہوئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وقف بورڈ نے اراضیات کی فراہمی سے اتفاق کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے تاہم جن اراضیات کی نشاندہی کی گئی ان میں بیشتر اراضیات کا عدالتوں میں تنازعہ چل رہا ہے۔ 60 اور 40 فیصد کے تناسب سے اسکیم پر عمل آوری ہوگی۔ تعمیری خرچ کا 60 فیصد مرکزی حکومت اور باقی 40 فیصد تلنگانہ حکومت فراہم کرے گی۔ مرکز نے 12 اسکولوں کی تعمیر سے متعلق اپنے حصہ کی رقم جاری کردی ہے۔ حیدرآباد کلکٹر نے سعیدآباد اورگولکنڈہ علاقوں میں اسکولوں کیلئے سرکاری اراضی کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک اراضی کا معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ ایسے علاقے جہاں اراضیات کسی تنازعہ کے بغیر دستیاب ہیں وہاں تعمیری کام فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مزید 10مقامات پر ضلع کلکٹرس کی جانب سے بہت جلد اراضی کے الاٹمنٹ کی توقع ہے۔ نظام آباد میں 2 مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جاریہ سال کے اواخر تک ٹنڈرس کو قطعیت دے دی جائے گی اور آئندہ تعلیمی سال کے آغاز تک نئی عمارتوں کو مکمل کرلیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کے وزارت اقلیتی اُمور نے تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی ترقی کیلئے بھی فنڈز کی فراہمی سے اتفاق کیا ہے۔ غیر متنازعہ اراضیات کیلئے وقف کونسل آف انڈیا کے ذریعہ فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ شاہنواز قاسم نے بتایا کہ نئی عمارتوں کی تعمیر کے بعد تلنگانہ ملک کی وہ واحد ریاست بن جائے گی جس نے نئے اسکولوں کی تعمیر کے سلسلہ میں پیش رفت کی ہے۔