تلنگانہ کے بلدی انتخابات میں پیسہ کا کھیل

   

پارٹیوں کی جانب سے دولت مند افراد کو ہی ٹکٹ دینے کی اطلاع
حیدرآباد ۔ 3 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ریاست بھر میں 7 میونسپل کارپوریشنوں اور 116 میونسپلٹیز کے لیے 11 فروری کو انتخابات ہوں گے ۔ ان انتخابات میں سیاسی تجربہ ، لگاتار فتوحات کی تاریخ ، سماجی گروپوں کی حمایت امیدواروں کے انتخاب کے لیے ان میں سے کوئی بھی اہمیت نہیں رکھتا ۔ متعلقہ پارٹیوں کے اہم رہنما اور صدور نے صرف پیسے والوں کو ٹکٹ دیتے ہوئے پرچہ نامزدگی داخل کروائی ۔ انتخابات کو پیسوں کے ساتھ دیکھا جارہا ہے ۔ انتخابات میں کامیابی کے لیے سب سے اہم رقم کی ضرورت ہوگی ۔ ووٹرس میں پیسے تقسیم کرنا اور انتخابی مہم میں بھی پیسہ ہی کام آئے گا ۔ جس کے لیے چہرہ سے زیادہ پیسے کو اہمیت دیتے ہوئے امیدواروں کو میدان میں اتارا جارہا ہے ۔ ہر ڈیویژن میں ایک ووٹ کو کم از کم دس ہزار روپئے تک خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں ۔ اگر امیدوار بننا ہے تو کم از کم 50 لاکھ خرچ کرنے والا اور چیرپرسن یا مئیر بننے کے لیے پانچ کروڑ روپئے کی ضرورت ہوگی ۔ امیدواروں کو رقم جمع کرنے کے لیے کہا جارہا ہے اگر رقم نہ ہو تو اپنا نام واپس لے لیں انہیں کوئی بھی نامزد عہدہ دیا جائے گا ۔ بڑی پارٹیاں کچھ میونسپلٹیوں اور کارپوریشنوں میں امیدواروں کو صرف اس صورت میں بی فارم جاری کرنے کی تیاری کررہی ہیں جب ان کے پاس مقامی عوامی حمایت اور مالی وسائل موجود ہوں ۔ ریاست بھر میں 116 میونسپلٹیز اور 7 میونسپل کارپوریشنوں کے لیے 11 فروری کو انتخابات ہونے والے ہیں ۔ نلگنڈہ میونسپل کارپوریشن کے تحت ایک ڈیویژن میں اہم پارٹی کے ایک مئیر امیدوار نے پانچ کروڑ روپئے تک خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ کوداڑ میں 35 وارڈز ہیں چیرپرسن کا امیدوار جو 3.50 کروڑ روپئے تک فی وارڈ 10 لاکھ کے لحاظ سے جمع کئے ۔ چار امیدواروں نے اپنے طور پر 3.50 کروڑ جمع کئے ۔ لیکن ان چاروں امیدواروں میں یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کس کو چیرپرسن کا امیدوار کے طور پر پیش کیا جائے ۔ یہ تمام اخراجات خود امیدوار کو برداشت کرنے کو کہتے ہوئے روانہ کردیا گیا ۔ بی فارم کے لیے تین کروڑ جمع کرنے کو کہا گیا تب ہی انہیں چیرپرسن بنایا جائے گا ۔ میدک ضلع کے ایک حلقہ میں سینیئر لیڈر نے کہا کہ پارٹی صرف ان امیدواروں کو بی فارم جاری کرے جو انتخابی مہم اور دیگر اخراجات کے لیے 20 لاکھ روپئے خرچ کرسکتے ہیں اور چیرپرسن کے عہدے کے لیے پانچ کروڑ روپئے جمع کرسکتے ہیں ۔ انہیں عہدہ دیا جائے گا ۔ کریم نگر ضلع میں ایک حلقہ میں ایک پارٹی نے ٹکٹ صرف اس صورت میں طئے کیا کہ جب امیدوار 10 لاکھ خرچ کرنے کی صلاحیت کا ثبوت پیش کرے گا ۔ کریم نگر اور راماگنڈم میونسپل کارپوریشن کے دو سب سے زیادہ مانگ والے ڈیویژن میں ایک اور بڑی پارٹی صرف ان امیدواروں کو بی فارم جاری کررہی ہے جو 30 سے 50 لاکھ روپئے خرچ کرسکتے ہیں ۔ نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں ایک پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ صرف ان امیدواروں کو ٹکٹ دے گی جو 50 لاکھ روپئے تک خرچ کرسکتے ہیں ۔ دیگر چار بلدیات میں ایک پارٹی کے رہنما نے اعلان کیا کہ 15 سے 20 لاکھ روپئے خرچ کرنے والے امیدوار کو ہی بی فارم دیا جائے گا ۔ مشترکہ ضلع ورنگل میں چیرپرسن کے عہدے کے لیے ایک پارٹی کے رہنما نے تین کروڑ اور دوسری میونسپلٹی کے لیے 2 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا معاہدہ کیا۔ دیگر دو میونسپلٹی میں امیدواروں کے بینک کھاتوں میں 25 لاکھ جمع رہنے پر ہی بی فارم دینے کا اعلان کیا ۔ مشترکہ عادل آباد ، کھمم اضلاع میں پانچ کروڑ روپئے خرچ کرنے پر ہی مئیر کا عہدہ دینے کا اعلان کیا گیا ۔ محبوب نگر میں بھی مئیر کیلئے پانچ کروڑ روپئے تک خرچ کرنے کیلئے سینئیر قائدین نے کہا ۔ سوریہ پیٹ ضلع میں حضور نگر میں ایک اہم سیاسی جماعت نے تمام امیدواروں کو اپنے اکاونٹ میں 10 لاکھ روپئے جمع کر کے تفصیلات پیش کرنے کو کہا ۔ پارٹی کی جانب سے کوئی فنڈ جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ۔ اپنے ذاتی پیسے خرچ کرنے کو کہا گیا ۔ چیرپرسن کے عہدے کیلئے تین کروڑ روپئے جمع کرنے کو کہا گیا ۔۔ش