مرنے والوں میں 54 لڑکیاں اور 72 لڑکے ہیں شامل
حیدرآباد 7 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقامتی تعلیمی اداروں کی صورتحال پر سنگین سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں 126 طلبہ کی اموات ہوئی ہیں جس سے نظام تعلیم اور طلبہ کی حفاظت پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مرنے والوں میں 54 لڑکیاں اور 72 لڑکے شامل ہیں۔ ماہرین تعلیم اور گروکل اداروں کے عملہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کو معیاری غذا نہ ملنے کے باعث اکثر وہ بیمار ہوکر ہاسپٹلس میں داخل ہورہے ہیں۔ کئی واقعات میں آلودہ یا ناقص غذا کو بیماری کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مختلف اداروں میں اموات کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔ گروکل ادارے 50 کستوربا ودیالیہ، 25 ویلفیر ہاسٹلس، 24 آشرم اسکولس، 16 ماڈل اسکولس، 7 سرکاری اسکولس 4 ۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سمیت غذا کے استعمال سے طلبہ بیمار ہوجانے یا ان کی کسی بھی وجہ سے موت ہوجاتی ہے تو حکومت حرکت میں آتی ہے۔ کبھی وزراء یا کبھی عہدیدار دورہ کرتے ہیں۔ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ وارڈن یا پرنسپل کو معطل کرنا معمول بن چکا ہے۔ لیکن اصل وجوہات کی نشاندہی اور مستقل حل پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ طلبہ کو معیاری خوراک، بہتر طبی سہولتیں اور سخت نگرانی کی جائے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جاسکے۔2