تلنگانہ کے دو پراجکٹس کو مرکز اپنے کنٹرول میں لے جگن موہن ریڈی کا مطالبہ، برقی پیداوار کے آغاز پر اعتراض

   

حیدرآباد: تلگو ریاستوں کے درمیان دریائے کرشنا کے پانی کے مسئلہ پر تنازعہ میں شدت کے دوران چیف منسٹر آندھراپردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر جل شکتی شیخاوت کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ انہوں نے دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر مرکز سے مداخلت کی اپیل کی۔ جگن موہن ریڈی نے ناگرجنا ساگر اور سری سیلم پراجکٹ کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ برقی اور پانی کی مساوی طور پر تقسیم عمل میں لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ حکومت تنازعہ کی یکسوئی کیلئے تیار نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ دونوں پراجکٹس کو مرکز کے حوالے کردے تاکہ مرکز دونوں پراجکٹس کی نگہداشت کے علاوہ پانی کی تقسیم کا کام انجام دے ۔ جگن نے ریاستی وزراء کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کے رویہ پر تنقید کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ آبی تنازعہ پر تلنگانہ کی جانب سے کشیدگی پیدا کی جارہی ہے۔ جگن نے ریاستی وزراء کو مشورہ دیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں کیونکہ تلنگانہ میں مقیم آندھرائی عوام کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت آبی تنازعہ پر کشیدگی کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ جگن موہن ریڈی مرکزی حکومت سے دونوں آبپاشی پراجکٹس اپنی تحویل میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر جگن نئی دہلی کا دورہ کریں گے اور وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے آبی تنازعہ اور تلنگانہ کی جانب سے ناانصافیوں کی تفصیلات بیان کریں گے۔ تلنگانہ حکومت نے آبپاشی پراجکٹس میں ہائیڈل برقی پیداوار کا آغاز کردیا ہے جس پر آندھراپردیش کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔ آندھرائی حکومت کا کہناہے کہ ذخیرہ آب میں پانی کی سطح میں کمی کے باوجود تلنگانہ حکومت برقی کی پیداوار کے ذریعہ پانی کا استعمال کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ کشیدگی میں اضافہ کے بعد تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس کے اطراف سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ آندھراپردیش کے عہدیداروں کی ٹیم کو ناگرجنا ساگر پراجکٹ کے دورہ سے روک دیا گیا جبکہ وہ عہدیداروں کو یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔ پولیس نے سرحد پر ہی آندھرائی عہدیداروں کو روک دیا اور ان کی گاڑیوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کردیا ۔