تلنگانہ کے ساتھ مرکز کے جانبدارانہ رویہ کا الزام مسترد

   

تلنگانہ سے متعلق وزیر اعظم کے بیان کی تائید، بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل سے متعلق وزیر اعظم کے بیان میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اروند نے کہا کہ مرکزی بجٹ کی پیشکشی کے بعد سے ہی کے سی آر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی بڑھتی مقبولیت سے کے سی آر ٹنشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیان میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اور انہوں نے تلنگانہ عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ریاست کی تقسیم کے بارے میں حقائق کا اظہار کیا ہے۔ اروند نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ جذبات کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا لیکن عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کانگریس پارٹی زوال کا شکار ہے اور تلنگانہ میں اپنی ساکھ بچانے کی جدوجہد کررہی ہے۔ اروند نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کی تشکیل کی صورت میں ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے 1200 سے زائد نوجوانوں کی قربانی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسمبر 2009 میں تلنگانہ کا اعلان کرنے کے بعد یو پی اے نے اپنے قدم پیچھے کیوں ہٹائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 9 پسماندہ اضلاع کیلئے ہر سال 450 کروڑ مرکز سے حاصل ہورہے ہیں۔ تلنگانہ میں ریلوے پراجکٹس کیلئے 2420 کروڑ کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کوچ فیکٹری کیلئے ریاستی حکومت نے آج تک اراضی الاٹ نہیں کی ہے۔ ٹرائیبل یونیورسٹی کیلئے 40 کروڑ روپئے مرکز نے مختص کئے ہیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بیروزگار نوجوانوں کیلئے الاؤنس اور دلتوں کیلئے 3 ایکر اراضی کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ جاری کرنے سے حکومت گریز کررہی ہے۔ ممتا بنرجی نے 25 لاکھ مکانات تعمیر کئے لیکن تلنگانہ میں مرکز کی جانب سے جاری کردہ فنڈز کا کوئی حساب نہیں ہے۔ میرے انتخابی حلقہ میں کانگریس کے 5 فیصد ووٹ بھی نہیں ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریونت ریڈی کانگریس میں شامل ہوئے ان کا تلنگانہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ واجپائی دور حکومت میں 3 ریاستیں تشکیل دی گئی تھیں اور کانگریس نے 10 سالہ دور اقتدار میں تلنگانہ تشکیل دیا لیکن اس کا طریقہ کار دستور کے مطابق نہیں ہے۔ر