تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے سنیٹائزیشن کا کوئی نظم نہیں

   

اگسٹ کے بعد سے کلاسیس کا سنیٹائزیشن نہیں کیا گیا، حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کا انتظار، اولیائے طلبہ میں تشویش

حیدرآباد۔یکم ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا کی امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے حکومت نے سرکاری اور خانگی اسکولوں میں احتیاطی تدابیر کے بارے میں سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ وقفہ وقفہ سے کلاس رومس کو سنیٹائز کریں اور سماجی فاصلہ کے ساتھ کلاسیس کا اہتمام کیا جائے۔ طلبہ ، اساتذہ اور دیگر اسٹاف کیلئے ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے احکامات پر خانگی اسکولوں میں عمل آوری کی گئی لیکن سرکاری اسکولوں کی حالت جوں کا توں برقرار ہے اور وہاں سنیٹائزیشن اور دیگر احتیاطی تدابیر کے بارے میں لاپرواہی کا رویہ دیکھا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ کی زندگی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ اگسٹ میں اسکولوں میں باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کے وقت حکومت نے کلاس رومس کو سنیٹائز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ریاست میں کورونا کی صورتحال اگرچہ مجموعی طور پر قابو میں ہے لیکن اسکولوں اور خاص طور پر اقامتی اسکولوں میں کورونا کیسس منظر عام پر آرہے ہیں۔ ابھی تک 14 مختلف واقعات میں 212 طلبہ کورونا سے متاثر پائے گئے جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں قواعد کی عدم پابندی سے اولیائے طلبہ میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ حکومت نے پہلی مرتبہ بلدی اور گرام پنچایت ورکرس کے ذریعہ سرکاری اسکولوں کے سنیٹائزیشن کا کام انجام دیا تھا۔ اگسٹ کے آخری ہفتہ میں یہ کام انجام دیا گیا لیکن اس کے بعد سے سرکاری اسکولوں میں صحت و صفائی کے انتظامات پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 27 ہزار سے زائد ہے اور ہر سال صفائی عملے کیلئے سمگرا سکھشا اسکیم کے تحت 63 کروڑ روپئے جاری کئے جاتے ہیں۔ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے دوران بجٹ کی اجرائی عمل میں نہیں آئی اور حکومت نے گرام پنچایت اور میونسپل ورکرس کے ذریعہ صفائی کا کام انجام دینے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کے بعد سے تقریباً 80 فیصد سرکاری اسکولوں میں سنیٹائزیشن کا کام انجام نہیں دیا گیا۔ ٹیچرس اسوسی ایشنوں کے نمائندوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صفائی کے کاموں کیلئے بجٹ جاری کرنے عہدیداروں سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں غیر صحتمند ماحول میں ڈیوٹی انجام دینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ سنیٹائزیشن کیلئے ہر اسکولوں کو ماہانہ تقریباً 2500 روپئے کا خرچ آسکتا ہے۔ بعض اسکولوں میں ٹیچرس اپنے طور پر رقم اکٹھا کرتے ہوئے صفائی کا کام مکمل کرارہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں صفائی عملے کیلئے فوری بجٹ کی اجرائی ضروری ہے تاکہ طلبہ کو کورونا کے قہر سے بچایا جاسکے۔ر