حیدرآباد ۔10۔ جون(سیاست نیوز) دریائے کرشنا کے پانی کے مسئلہ پر قائم کردہ کمیٹی کا عنقریب اجلاس منعقد ہوگا جس میں ایجی ٹیشن کو قطعیت دی جائے گی ۔ کانگریس کی جانب سے قائم کی گئی احتجاجی کمیٹی کے صدرنشین ناگم جناردھن ریڈی ، کنوینر رام موہن ریڈی ، سابق وزیر چنا ریڈی اور سابق رکن پارلیمنٹ ملو روی نے آج گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آندھراپردیش کی جانب سے پانی کے مسئلہ پر تلنگانہ سے ناانصافی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رائلسیما میں پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کے لئے دریائے کرشنا سے اضافی پانی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو تلنگانہ کے مفاد میں ہے ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ کے سی آر حکومت آندھراپردیش کے فیصلہ پر خاموشی اختیار کرچکی ہے ۔ سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ جناردھن ریڈی نے کہا کہ دریائے کرشنا سے پانی کے حصول کی صورت میں تلنگانہ کے کئی اضلاع خشک سالی کا شکار ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کو 101 ٹی ایم سی پانی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے لیکن وہ 120 ٹی ایم سی پانی حاصل کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ سے ناانصافیوں پر کے سی آر کی خاموشی معنی خیز ہے۔ دونوں چیف منسٹرس آپسی ملی بھگت کے ذریعہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ قائدین نے کہا کہ اگر آندھراپردیش کو روکا نہیں گیا تو تلنگانہ کے کئی اضلاع پینے کے پانی اور آبپاشی کی سہولتوں سے محروم ہوجائیں گے۔