تلنگانہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں جمعہ کو مرکزی حکومت کے خلاف کسانوں کے ساتھ دھرنا

   

دھان کی خریدی اور پٹرول ‘ ڈیزل پر ٹیکس سے دستبرداری کا مطالبہ ، دیش دروہی کے الزام پر برہمی، انکم ٹیکس و ای ڈی سے خوفزدہ نہیں، کے سی آر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔8۔نومبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پٹرول اور ڈیزل پر مرکز کے سیس سے دستبرداری اور تلنگانہ میں کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز کے خلاف جدوجہد میں تیزی پیدا کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو دھان کی خریدی کیلئے مجبور کرنے جمعہ کو ریاست کے ہر اسمبلی حلقہ میں کسانوں کے ساتھ دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول و ڈیزل پر مرکز کے مکمل ٹیکسیس کی برخواستگی تک ٹی آر ایس احتجاج جاری رکھے گی۔ پرگتی بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف منسٹر نے بی جے پی قائدین کی جانب سے انہیں دیش دروہی قرار دینے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے حق میں سوال کرنے اور حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کو بے نقاب کرنے پر ہر کسی کو دیش دروہی کا لیبل لگانا بی جے پی کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ۔ کے سی آر نے سوال کیا کہ صدر جمہوریہ کے الیکشن میں ٹی آر ایس کی تائید حاصل کی گئی ، اس وقت میں دیش دروہی نہیں تھا ۔ پارلیمنٹ میں مختلف بلز کی تائید کے وقت ہم دیش دروہی نہیں تھے ۔ حکومت کی تائید کرنے پر ہم اچھے تھے لیکن اب عوام کیلئے سوال کرتے ہی دیش دروہی کا لیبل لگایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ 7 برسوں میں یہی کچھ دیکھا گیا جس کسی نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی ، اسے اربن نکسلائٹ یا پھر دیش دروہی لیبل لگاکر جھوٹے الزامات عائد کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ میگھالیہ گورنر ستیہ پال ملک اور بی جے پی ایم پی ورون گاندھی نے زرعی قوانین کی مخالفت کی ہے۔ کیا یہ دونوں بھی دیش دروہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش میں چین کی مداخلت کو روکنے اور اراضی کا تحفظ کرنے کی اپیل بی جے پی کو برداشت نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے تحفظ کی اپیل کرنے والے دیش دروہی ہیں یا پھر اراضی کے تحفظ میں ناکام افراد کو دیش دروہی کہا جائے گا ۔ کے سی آر نے بی جے پی صدر بنڈی سنجے کے ان کے خلاف شخصی الزامات پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک بھر میں حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو انکم ٹیکس اور ای ڈی دھاوؤں کے ذریعہ ہراساں کیا جاتا ہے ۔ میں کسی انکم ٹیکس یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے ڈرنے والا نہیں ہوں کیونکہ میں نے کوئی چوری یا غلط کام نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں کی دھان کی خریدی اور پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس سے دستبرداری پر واضح موقف کا اظہار کرے۔ مرکز کے اعلان تک ٹی آر ایس عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال سے وہ شخصی الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور ایسے لوگ الزامات عائد کرتے ہیں جن میں کوئی صلاحیت نہیں۔ جن کی باتوں میں کوئی وزن نہیں اور عوام کی انہیں تائید حاصل نہیں۔ ایسے لوگوں کے الزامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے بنڈی سنجے سے سوال کیا کہ وہ تلنگانہ تحریک کے دوران کہاں تھے ۔ تلنگانہ کا کوئی شخص انہیں جانتا تک نہیں تھا۔ پارلیمنٹ میں تلنگانہ تشکیل کے بل پر رائے دہی کے وقت غیر حاضر رہنے سے متعلق الزام کو مسترد کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ بنڈی سنجے نے اس وقت تک پارلیمنٹ کی صورت بھی نہیں دیکھی تھی ، وہ ووٹنگ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 7 برسوں تک ہم نے تحمل سے کام لیا ہے لیکن اب خاموش نہیں رہیں گے ۔ تلنگانہ کا کوئی گھر ایسا نہیں جو حکومت کی کسی نہ کسی اسکیم سے استفادہ نہ کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں آندولن کاری ہوں اور میں نے تلنگانہ جدوجہد کے دوران بہت حالات کا سامنا کیا ہے ۔ اب بی جے پی کی الزام تراشی سے خوفزدہ نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی صدر ریاستی اسکیمات کا سہرا بی جے پی کے سر باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھیڑ بکریوں کی تقسیم کیلئے مرکز سے فنڈس کی اجرائی کے دعویٰ پر کے سی آر نے کہا کہ یہ بات ثابت کی گئی تو وہ چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دیں گے ۔ کے سی آر نے کہا کہ نیشنل کوآپریٹیو اربن بینک سے قرض حاصل کرکے اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے اور حکومت سود کے ساتھ رقم واپس کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام سے منتخب ہوکر حکومت چلا رہے ہیں جبکہ بی جے پی نے کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں دیگر پارٹیوں کی حکومتوں کو غیر جمہوری طریقہ سے زوال سے دوچار کرکے حکومت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 ء میں 107 اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کی ضمانت ضبط ہوئی اور حال میں ناگرجنا ساگر میں بھی بی جے پی اپنی ضمانت سے محروم رہی ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا لیکن مرکز نے پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مکمل ٹیکس واپس لیتی ہے تو ملک میں پٹرول 75 اور ڈیزل 68 روپئے فی لیٹر ہوسکتا ہے ۔ 16 مرتبہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ تلنگانہ حکومت نے ویاٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا ۔ 2015 ء میں ویاٹ کو معقولیت پسند بنانے اقدامات کئے گئے جو کوئی اضافہ نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بے بنیاد الزامات کیلئے مشہور ہے اور جب کبھی الیکشن جیتنا ہو تو مذہبی جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مرکز ی حکومت نے سات برسوں میں کسی ایک طبقہ کی بھلائی کا ایک بھی کام انجام نہیں دیا ہے ۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں۔ کے سی آر نے کہا کہ میں کسی بھی تحقیقات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ جب تک ہم بی جے پی کی بات سنتے رہے ، ہم دیش بھکت تھے ۔ اب جبکہ کسانوں اور عوام کے مفادات کی بات کر رہے ہیں تو ہمیں دیش دروہی کا لیبل لگایا جارہا ہے ۔ دیگر پارٹیوں کے قائدین کی شمولیت کی تائید کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے اور صلاحیت کی بنیاد پر کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ کے سی آر نے اعتراف کیا کہ دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ پورا نہیں کیا جاسکا جس کی بعض وجوہات ہیں۔ دلت کو چیف منسٹر بنائے بغیر ہی دوسری مرتبہ ہم نے پہلے سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ کے سی آر نے کہا کہ جمہوریت میں اقتدار مستقل نہیں ہوتا ۔ عوام ہمیں جو رول دیں گے ، ہم ادا کرنے تیار ہیں۔ ر