حکومت کو تلنگانہ پولیوشن بورڈ ، موسیٰ ندی ریور فرنٹ
ڈیولپمنٹ کمیٹی کو منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔21اکٹوبر(سیاست نیوز) موسیٰ ندی کی صفائی کے اعلانات پر اب عمل آوری کے امکانات میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ کئی برسوں سے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے اور صفائی کے اقدامات کے سلسلہ میں کئے جانے والے اعلانات پر عمل آوری اور کروڑہا روپئے خرچ کئے جانے کے باوجود کوئی نتائج برآمد نہ ہونے کے سبب شہریوں کی جانب سے اس پراجکٹ کے سلسلہ میں مایوسی کا اظہار کیا جانے لگا تھا لیکن اب تلنگانہ ہائی کورٹ کی نگرانی میں موسیٰ ندی کی صفائی اور خوبصورتی میں اضافہ کے اقداما ت کئے جائیں گے۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس اے راج شیکھر ریڈی پر مشتمل بنچ نے حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ پولیشن کنٹرول بورڈ اور موسیٰ ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی کو منصوبہ پیش کرنے سے قبل عدالت میں اگلی سماعت سے قبل اس منصوبہ کو پیش کیا جائے ۔ عدالت نے فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے داخل کردہ درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران یہ احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کی خوبصورتی اور صفائی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات پر عمل آوری نہ کئے جانے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور سیکریٹری فورم فار گوڈ گورننس مسٹر ایم پدمنا بھا ریڈی عدالت سے رجوع ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں داخل کردہ اپنی درخواست مفاد عامہ میں حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ جو اعلانات کئے جا رہے ہیں ان پر عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے۔ ہائی کورٹ میں درخواست گذار کی وکیل بی رچنا ریڈی نے تجویز پیش کی کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے اور صفائی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ریاست اور مرکز کے درمیان معاہدہ اور مشترکہ پراجکٹ کے طور پر اسے شروع کیا جائے۔ م
حکومت کی جانب سے سرکاری وکیل مسٹرسنجیو کمار نے عدالت کو اس بات سے واقف کروایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے 2017-18کے دوران موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن تشکیل دیا ہے اور موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی نے 22مارچ 2021کو رپورٹ پیش کردی ہے اور نیشنل گرین ٹریبونل کو یہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد این جی ٹی نے چند تجاویز و سفارشات پیش کرتے ہوئے تلنگانہ ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایات جاری کی ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے دونوں فریقین کی سماعت کے بعد مقدمہ کی آئندہ سماعت ڈسمبر کے پہلے ہفتہ میں مقررکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔م