جسٹس نوین راؤ اور جسٹس نگیش کا مثالی اقدام، سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل آوری
حیدرآباد ۔30۔ جون (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کی جانب سے اہم فیصلوںکو علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے آن لائین پیش کرنے ریاستی ہائی کورٹس کو ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے تلگو زبان میں اپنا پہلا فیصلہ صادر کیا ہے ۔ سکندرآباد میں دو بھائیوں کے درمیان اراضی کے تنازعہ پر جسٹس پی نوین راؤ اور جسٹس بی نگیش پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے تلگو میں فیصلہ صادر کیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی تاریخ میں تلگو زبان میں یہ پہلا فیصلہ ہے ۔ فروری میں کیرالا ہائی کورٹ نے ملیالم زبان میں فیصلہ صادر کیا تھا۔ جسٹس پی نوین راؤ اور جسٹس بی نگیش نے تلگو اور انگریزی دونوں زبانوں میں فیصلہ تیار کرایا۔ بنچ نے اس بات کی وضاحت کردی کہ تلگو میں پائی جانے والی کسی بھی غلطی کے لئے انگریزی زبان کے فیصلہ سے تقابل کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ فریقین کی سہولت کیلئے تلگو میں فیصلہ صادر کیا جارہا ہے ۔ ججس نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لئے تلگو فیصلہ میں بعض انگریزی الفاظ استعمال کئے گئے۔ واضح رہے کہ سکندرآباد کے ماچا بلارم علاقہ میں 4 ایکر اراضی پر کے چندرا ریڈی اور کے متیم ریڈی کے درمیان تنازعہ جاری تھا ۔ یہ اراضی ان کی ماں کے نام پر ہے اور انہوں نے اپنی زندگی میں اراضی تقسیم نہیں کی۔ ماں کے دیہانت کے بعد بھائیوں میں اراضی پر تنازعہ شروع ہوا اور چندرا ریڈی نے ماں کی جانب سے وصیت کا دعویٰ کیا جسے متیم ریڈی نے عدالت میں چیلنج کیا۔ مقامی عدالت نے چندرا ریڈی کے دعویٰ کو مسترد کردیا جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے تلگو میں فیصلہ صادر کرنے کا مختلف حلقوں سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ ٹاملناڈو ، گجرات اور چھتیس گڑھ کے وکلاء نے ہائیکورٹس میں علاقائی زبانوں کو متعارف کرنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے مسترد کردیا ۔ امید کی جارہی ہے کہ تلنگانہ ہائیکورٹ میں دیگر ججس تلگو زبان میں فیصلے صادر کریں گے۔ر