اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کا دعوی، انیس الغرباء اور اسلامک سنٹر کا تذکرہ
حیدرآباد۔ 3جون (سیاست نیوز) یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے مختلف شعبہ جات میں حکومت کے کارناموں پر مشتمل تفصیلات جاری کی ہیں۔ انہوں نے شعبہ جات صحت، برقی، ایس سی ایس ٹی ویلفیر، عوامی بھلائی، آبپاشی، تعلیم، داخلی سلامتی، صنعت، کلچر، اسپورٹس، عمارات و شوارع، مشن بگھیرتا، ہریتاہارم، اقلیتی بہبود اور انتظامی اصلاحات پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کے کارناموں کو جاری کیا ہے۔ محکمہ زراعت اور کسانوں کی بھلائی کے سلسلہ میں حکومت نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا دعوی کیا ہے۔ اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے دعوی کیا کہ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے خصوصی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ اقلیتی طلبہ کو کارپوریٹ طرز کی انگلش میڈیم معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے 204 اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ رمضان، کرسمس اور دیگر احوال سرکاری طور پر منائے جاتے ہیں۔ غریب اور یتیم بچوں کے لیے انیس الغرباء کی عالیشان عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔ 4300 مربع گز پر 20 کروڑ کے خرچ سے تعمیری کام جاری ہے۔ تاریخی مکہ مسجد کی تزئین نو اور تعمیری کاموں کے لیے 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے منظور کئے گئے۔ اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت نے قبول کی ہے۔ عیسائیوں اور سکھوں کے لیے علیحدہ بھون کی تعمیر کو منظوری دی گئی۔ آئمہ و موذنین کے لیے ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ فراہم کیا جارہا ہے۔ کوکا پیٹ کے علاقے میں 10 ایکر اراضی پر 40 کروڑ کے صرفہ سے بین الاقوامی طرز کے اسلامک سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ تمام سرکاری دفاتر اور کلکریٹس میں 66 اردو آفیسرس کا تقرر کیا گیا۔