لوک پول ایجنسی کا سروے، تلنگانہ میں کانگریس کو 61 تا 67 اور بی آر ایس کو 45 تا 51 نشستوں پر کامیابی کا امکان، مجلس کو 6 تا 8 نشستیں
حیدرآباد 5 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ انتخابات کیلئے اہم جماعتوں کی مہم کا عملاً آغاز ہوچکا ہے حالانکہ الیکشن کمیشن نے تاحال انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا۔ گزشتہ 9 برسوں سے برسر اقتدار بی آر ایس کو اِس مرتبہ کامیابی کا راستہ آسان نہیں رہے گا اور ماقبل ووٹنگ کئی سروے منظر عام پر آچکے ہیں لیکن بی آر ایس کی شکست کی پیش قیاسی کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خانگی میڈیا سروے کے علاوہ بھی حکومت نے انٹلی جنس وغیرہ سے رپورٹ لی ہے جس میں ذرائع کے مطابق بی آر ایس کی مقبولیت میں کمی کی پیش قیاسی کی گئی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بااعتماد رفقاء سے سروے رپورٹ کی تفصیلات شیئر کی ہیں جس کے مطابق بی آر ایس اور کانگریس میں محض 2 فیصد کا فرق بتایا گیا ۔ انتخابی شیڈول کے اعلان اور امیدواروں کے عوام کے درمیان پہونچنے کے بعد حقیقی منظر سامنے آئیگا۔ اِسی دوران لوک پول ادارہ نے تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقوں میں ماقبل الیکشن سروے رپورٹ جاری کی ۔ 10 اگسٹ تا 30 ستمبر تمام اسمبلی حلقہ جات میں 60 ہزار سے زائد افراد کی رائے لے کر رپورٹ تیار کی گئی جس میں بی آر ایس کے اقتدار سے محروم ہونے اور کانگریس کے سادہ اکثریت سے اقتدار پانے کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ رپورٹ نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی اور کانگریس کیڈر میں کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ لوک پول سروے کے مطابق بی آر ایس کو 45 تا 51 اسمبلی نشستیں ملیں گی اور ووٹوں کا فیصد 39 تا 42 رہے گا۔ کانگریس کو 61 تا 67 نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے اور ووٹ فیصد 41 تا 44 رہے گا۔ بی آر ایس کی حلیف مجلس کو 6 تا 8 نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی اور اُن کا ووٹ شیئر 3 تا 4 فیصد رہے گا۔ بی جے پی جو تلنگانہ میں اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے اُسے 2 تا 3 نشستوں پر کامیابی ہوسکتی ہے اور ووٹ شیئر 10 تا 12 فیصد رہیگا۔ دیگر کو ایک نشست کی پیش قیاسی کی گئی اور دیگر کا ووٹ شیئر 3 تا 5 فیصد رہ سکتا ہے۔ سروے پر سیاسی پارٹیوں نے تاحال کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ لوک پول نے چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کیلئے بھی رپورٹ جاری کی ہے۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس کے دوبارہ اقتدار کی پیش قیاسی کی گئی جبکہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوسکتی ہے۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس کو 56 تا 60 نشستیں مل سکتی ہیں اور ووٹ شیئر 43 تا 45 فیصد رہیگا۔ بی جے پی 37 تا 39 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 25 تا 29 نشستوں پر کامیابی حاصل کریگی۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی 90 تا 95 نشستوں پر کامیاب ہوسکتی ہے جبکہ کانگریس 130 تا 135 نشستیں حاصل کرتے ہوئے مدھیہ پردیش میں اقتدار پر واپسی کرسکتی ہے ۔ بی جے پی کو 38 تا 41 فیصد اور کانگریس کو 40 تا 43 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں۔