تلگو دیشم پارٹی آفس این ٹی آر ٹرسٹ بھون کو تخلیہ کروانے حکومت کی مساعی

   

لیز ختم کرنے پر غور ، ٹرسٹ کے ملازمین کے مکتوب کو بنیاد بنانے کا منصوبہ
حیدرآباد۔ تلگودیشم پارٹی ہیڈ کوارٹرواقع بنجارہ ہلز روڈ نمبر 2 این ٹی آر ٹرسٹ بھون کی لیز کو ختم کردیا جائے گا!سابق چیف منسٹر و صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو سے این ٹی آر ٹرسٹ بھون کی جائیداد کو واپس لینے کے ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات کا آغاز کردیا جائے گا اور اس کے لئے ریاستی حکومت نے این ٹی آر ٹرسٹ بھون کے ملازمین کی جانب سے جاری کئے گئے کھلے مکتوب کو ہی بنیاد بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کا وجود باقی نہ رہنے کے سبب برسراقتدار جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے این ٹی آر ٹرسٹ بھون کی لیز کے معاہدہ کو برخواست کرتے ہوئے اس جائیداد کے حصول کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ این ٹی آر ٹرسٹ بھون کے ملازمین کی جانب سے جاری کئے جانے والے کھلے مکتوب میں ملازمین نے تلگودیشم سربراہ مسٹر این چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے گنٹور میں واقع پارٹی ہیڈ کوارٹر میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اب تک دو مرتبہ اضافہ کیا جاچکا ہے جبکہ تلنگانہ میں موجود این ٹی آر ٹرسٹ بھون میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 برسوں کے دوران کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ این ٹی آر ٹرسٹ بھون کے ملازمین نے اس طرح کے کسی مکتوب کے جاری کئے جانے کی تردید کی ہے اور کہا جا رہاہے کہ این ٹی آر ٹرسٹ بھون کی اراضی کے حصول کے لئے یہ سازش کی جا رہی ہے اور این ٹی آر ٹرسٹ بھون کے ملازمین کو اس کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا ہے۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں مسٹر این چندرا بابو نائیڈوکو اقتدار حاصل ہونے کے بعد 1997میں حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے یہ انتہائی قیمتی اراضی تلگو دیشم پارٹی آفس کے لئے لیز پر حوالہ کی تھی اس اراضی پر تلگو دیشم پارٹی نے 5کروڑ کی لاگت سے عظیم الشان عصری پارٹی آفس کی تعمیر عمل میں لائی لیکن ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم اور آندھرا پردیش میں مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد تلگو دیشم کے حیدرآباد صدر دفتر میں پارٹی سرگرمیاں محدود ہوکر رہ گئی تھیں دوسری طرف آندھرا پردیش میں بھی اقتدار سے محرومی کے بعد تلگو دیشم پارٹی کی سرگرمیاں محدود ہونے لگی ہیں ۔ 1997 میں اس وسیع و عریض اراضی کو 90000 ہزار روپئے سالانہ کرایہ پر این ٹی آر ٹرسٹ بھون کیلئے دیا گیا تھا جس میں ہر 5 سال کے بعد 10 فیصد اضافہ کی گنجائش فراہم کی گئی تھی اس لیز کی مدت 30 سال متعین کی گئی تھی۔بتایاجاتا ہے کہ لیز کی مدت کے اعتبار سے این ٹی آر ٹرسٹ بھون کو مزید 6 سال تک حاصل کرنے کے اقدامات کی صورت میں قانونی رسہ کشی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے حکومت کی جانب سے ٹرسٹ کے ملازمین کے ساتھ جاری ناانصافیو ںکو بنیاد بناتے ہوئے لیز معاہدہ کی برخواستگی کا جائزہ لیا جا رہاہے۔