تلگو ریاستوں کے تنازعات حل کرنے مساعی

   

وزارت داخلہ کا اجلاس‘ برقی بقایا جات کی ادائیگی پر زور
حیدرآباد 17 فروری (سیاست نیوز) تلگو ریاستوں کے تنازعات کی یکسوئی کیلئے مرکزی وزارت داخلہ جوائنٹ سکریٹری نے عہدیداروں کا اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت دونوں ریاستوں میں تنازعات پر بات چیت کی گئی۔ اے پی جینکو سے تلنگانہ برقی اداروں کو بقایا جات کی ادائیگی کا جائزہ لیا گیا۔ آندھراپردیش سے 12523کروڑ کی ادائیگی باقی ہے۔ آندھراپردیش حکومت نے مرکز سے خواہش کی کہ 3442 کروڑ میں معاملہ کی یکسوئی کردی جائے جوکہ تلنگانہ جینکو کی جانب سے قابل ادائیگی ہے۔ تلنگانہ عہدیداروں نے سٹیلمنٹ کے بجائے آندھراپردیش سے مکمل رقم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ مرکز کو اطلاع دی گئی کہ اے پی جینکو نے تلنگانہ کے قیام کے بعد برقی سربراہی روک دی اور تلنگانہ کو زائد قیمت پر دیگر اداروں سے برقی خریدی پر مجبور کردیا۔ مسرز ہندوجا نیشنل پاور کارپوریشن اور مسرز اے پی پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے علاوہ کرشنا پٹنم پاور پلانٹ سے برقی خریدی گئی۔ آندھراپردیش کے عہدیداروں نے برقی بقایا جات کے بارے میں تلنگانہ کے موقف کی تفصیلات بیان کیں اور کہاکہ حکومت مشاورت سے تنازعہ کی یکسوئی کے حق میں ہے۔ آندھراپردیش نے اسٹیٹ فینانشیل کارپوریشن کے اثاثہ جات کی تقسیم میں تلنگانہ سے ناانصافی کی ۔ اِس سلسلہ میں مرکز سے مداخلت کی درخواست کی گئی۔ اِس معاملہ میں عدالتوں میں مقدمات زیردوران ہیں۔ تلنگانہ نے مشترکہ اداروں کے بینک ڈپازٹس کی تقسیم کا مسئلہ اُٹھایا۔ آندھراپردیش نے بقایا جات کی ادائیگی کا تحریری تیقن سے اتفاق کیا ۔ تلنگانہ کی نمائندگی اسپیشل چیف سکریٹری فینانش کے رام کرشنا راؤ، پرنسپل سکریٹری انڈسٹریز جیش رنجن، اسپیشل چیف سکریٹری ٹرانسکو پربھاکر راؤ، سی سرینواس راؤ، شریمتی نیتو پرساد اور وی انیل کمار نے کی۔ ر