خاتون آئی اے ایس اور وزیر سے متعلق متنازعہ پروگرام پیش کرنے کا الزام
حیدرآباد:/14 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ پولیس نے منگل کی رات کو تلگو نیوز چینل سے وابستہ تین صحافیوں کو ایک متنازعہ پروگرام کے سلسلے میں حراست میں لے لیا جس میں ایک خاتون آئی اے ایس افسر اور تلنگانہ کے ایک وزیر شامل تھے۔ چہارشنبہ دوپہر تک افسران نے ان کی گرفتاری کی رسمی تصدیق نہیں کی تھی۔ یہ پولیس کارروائی اس وقت ہوئی جب تلنگانہ حکومت نے چینل کے نشر شدہ پروگرام کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ پروگرام نشر ہونے کے پانچ دن بعد حیدرآباد کے نارتھ رینج کی جوائنٹ کمشنر ایم شویتا ریڈی کی زیرنگرانی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی )کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ایک خاتون آئی ایس عہدیدار کے تعلق سے مبینہ غلط اور بے بنیاد پروگرام نشر کرنے کے الزام میں سنٹرل کرائم اسٹیشن (سی سی ایس) اور نارائن پیٹ کے مدور پولیس اسٹیشن میں دو علحدہ مقامات درج کئے گئے تھے ۔ ان مقدمات کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا ڈی جی پی شیودھر ریڈی نے حکم دیا تھا اور کل رات تلگو ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ڈی رمیش (ان پٹ ایڈیٹر) اور دو رپورٹرس پریپورنا چاری اور سدھیر کو اس وقت شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر گرفتار کرلیا جب وہ چھٹیاں منانے کیلئے بنکاک کیلئے روانہ ہونے والے تھا ۔ اسی دوران ایس آئی ٹی کے ارکان نے تلگو ٹی وی چینل کے دفاتر اور ان کے افراد خاندان کے مکانات کی بھی تلاشی لی ۔ صحافیوں کی گرفتاریوں نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کر دیا، جہاں کانگریس حکومت پر میڈیا کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا۔ بھارت راشٹرا سمتی (بی آر ایس) کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ب