فارم ہاوز واقعہ پر تنقید، بی آر ایس اور کانگریس میں خفیہ مفاہمت کا الزام
حیدرآباد۔/30اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ تلگو ریاستوں کی ترقی کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کئی اقدامات کررہے ہیں۔ وشاکھاپٹنم میں روزگار میلہ پروگرام میں حصہ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دو سال قبل روزگار میلہ پروگرام کے ذریعہ نوجوانوں کو تقررات کا آغاز کیا۔ 10 لاکھ نوجوانوںکو روزگار کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا اور دو برسوں میں 8 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وشاکھاپٹنم میں مزید ترقی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے پولاورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دیا ہے۔ کے سی آر خاندان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ کے سی آر خاندان جھوٹ میں مہارت رکھتا ہے اور روزانہ صبح ہوتے ہی جھوٹے بیانات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی طرح کے ٹی آر بھی اسی راستہ پر گامزن ہیں اور مخالفین کے خلاف گالی گلوج پر اُتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کے ٹی آر کی نوٹس سے خوفزدہ نہیں ہوں اور میں نے نہ صرف نوٹس کا جواب دیا ہے بلکہ نوٹس کے جواب میں نوٹس روانہ کردی ہے۔ جنواڑہ فارم ہاوز کے واقعہ پر کے ٹی آر کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ فارم ہاوز میں شراب کی دعوتوں کے اہتمام کیلئے شرم آنی چاہیئے۔ دسہرہ اور دیپاولی جیسی دعوتوں کے نام پر شراب اور ڈرگس کا اہتمام کرنا افسوسناک ہے۔ کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ تلنگانہ میں RKH حکومت چل رہی ہے یعنی ریونت، کے ٹی آر اور ہریش راؤ۔ بی آر ایس میں قیادت کیلئے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے درمیان تنازعہ شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر دراصل ٹوئٹر ٹِلو ہیں جو سوشیل میڈیا کے ذریعہ بی جے پی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ ریونت ریڈی اور کے سی آر دونوں ایک ہیں اور دونوں پارٹیوں میں خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے۔ کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔1