تمام قوموں کے اتحاد اور جدوجہدہی کے نتیجہ میں ہمیں آزادی ملی ہے: دیپک جان

   

بزم جوہر کی عید ملاپ تقریب ، پروفیسر ایس اے شکور،طارق انصاری سردار سجن سنگھ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد 16- اپریل (پریس نوٹ) پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف نے بزم جوہر کے زیر اہتمام اردو ہال حمایت نگر میں منعقدہ” عید کا پیام ہم وطنوں کے نام” ایک پُر اثر بین مذہبی عید ملاپ تقریب و مشاعرہ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کے ماحول میں محبت کے پیام کو عام کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے شاعر وادیب ڈاکٹر راہی مرحوم کی یادگار” بزم جوہر” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ لیکن نفرت وانتشار پسند طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ملک کے عوام مل جُل کر رہیں اور وہ محض اپنے مفادات کی پاسبانی کے لئے سماج کے طبقات میں نفرت کے بیج بوتے ہیں لیکن اب عوام کا شعور بیدار ہوچکا ہے اور اپنے عید اور تہواروں کے مواقع پر یکجا ہوکر فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کتنا افسوس کا مقام ہے کہ اب بے جان چیزوں کی بھی ہندو مسلم خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے شربت کو بھی تقسیم کردیا گیا رام کی تعلیمات سے نا آشنا لوگ نام میں رام رہنے کے باوجود انسانیت کو بانٹنے کی کوشش کررہے ہیں ایسا کرنا ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچارہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب پھول ‘ پتّے اور ہوا و پانی کو بھی مذہب کے خانوں میں بانٹ دیا جائے گا اور یہ ہمارے جمہوری ملک کے لئے نقصاندہ باتیں ہیں ۔ انہوں نے ڈاکٹر راہی مرحوم کی دختر ڈاکٹر روبینہ شبنم کو اس عید ملاپ تقریب کے انعقاد پر مبارکباددی اور کہاکہ اس طرح کی تقاریب کے لئے اورہند و مسلم یکجہتی کے لئے دانشورحضرات اور دیگر معززین آگے آئیں چیرمین اقلیتی کمیشن تلنگانہ جناب طارق انصاری نے کہا کہ قومی یکجہتی کو فروغ دینے والی تقاریب ہم سب کے لئے خوش آئند ہیں ۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کو جمع کرنا اور ان کے خیالات کو سماعت کرتے رہناچاہئیے انہوں نے اس سلسلہ میں ڈاکٹر جاوید کمال ،لطیف الدین لطیف اورڈاکٹر روبینہ شبنم کو دلی مبارکباد دی اورعوام میں مقبول اشعار سنائے اور سامعین کو محظوظ کیا۔ جناب عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ اعتماد نے کہا کہ ہمارے ملک کی اکثریت مل جل کر رہنا چاہتی ہے لیکن بعض طاقتیں نفرت کا پرچار کرتے ہوئے عوام کے دلوں کو توڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہر اعتبار سے مختلف تہذیبوں کا گہوارہ ہے اور رہے گا ۔ سماجی جہد کار محترمہ جسوین جے رتھ نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول کے باعث عوام کافی گُھٹن محسوس کررہے ہیں پرانی میل ملاپ والی روایات کااحیاء کرنے کے لئے عید ملاپ تقاریب بہترین ذریعہ ہیں سردار سجن سنگھ رکن سب کمیٹی شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور محبت کے پیام کو عام کریں ۔ انہوں نے تمام مذہبی کتابوں میں ہمیں جو سب سے بڑا درس دیا گیا ہے وہ محبت اور انسانیت کا ہے یہ سرزمین سب کی ہے یہاں کی تہذیبی روایات کی ہم کو قدر کرنی چاہئے سابق پرنسپال اردوایوننگ کالج حمایت نگر ڈاکٹر عتیق اقبال نے کہا کہ ایسی محفلیں ہمارے دلوں کو تازگی اور آپسی محبت وبھائی چارہ کو بڑھاوا دیتی ہیں جناب دیپک جان صدرنشین کرسچین فینانس کارپوریشن نے کہاکہ وہ بھی اس طرح کی تقریب کا ضروراہتمام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یکجہتی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ تمام قوموں کے اتحاد اور جدوجہدہی کے نتیجہ میں ہمیں آزادی ملی ہے انہوں نے کہا کہ آج دستورپر ہی حملے ہورہے ہیں ان حملوں سے ملک کو بچانا ضروری ہے دستورنے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دئیے ہیں یہ ملک سب کا ہے کسی کی جاگیر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عوام بالخصوص واٹس ایپ دنیاسے باہر نکلیںایک دوسرے سے ملیں اور اچھائیوں کو نہ صرف عام کریں بلکہ ایسی مہمات کا حصہ بنیں انہوں نے کہا کہ چند لوگ شرپسند ہیں ان کی شرپسندانہ حرکات کو ہم اپنے اتحاد واتفاق سے ہی ناکام بناسکتے ہیں صدر بزم جوہر ڈاکٹر روبینہ شبنم نے کلام سنایا اورسامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً بزم جوہر قومی یکجہتی کو فروغ دینے والی محترم شخصیات کے ساتھ ہے۔ڈاکٹرجاوید کمال نے بزم جوہر کا تعارف پیش کیا اور ڈاکٹر روبینہ شبنم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جناب لطیف الدین لطیف نے بڑی عمدگی سے کاروائی چلائی ڈاکٹر ناظم علی ناظم اور جناب محمد حسام الدین ریاض نے بھی قومی یکجہتی کے لئے بزم جوہر کی کوششوں کو سراہا ۔ اس موقع پر مولانا مظفر علی صوفی ابوالعلائی ، جناب مرتضی ٰ علی فاروقی ،مظفر احمد ،جناب سید ظہورالدین اور دیگر معززین موجود تھے ۔ ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری ‘ ڈاکٹر معین امر بمبو ‘ خادم رسول عینی ‘ شکیل حیدر’ بصیر خالد ‘ وحید پاشاہ قادری ‘ لطیف الدین لطیف ‘ رفیعہ نوشین تقیہ غزل اور ڈاکٹر روبینہ شبنم نے کلام سنایا۔ ریحانہ سلطانہ کے شکریہ پر یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔