تنازعات میں گھری فلم ’دی تاج اسٹوری‘ اوٹی ٹی پر بھی ناکام

   

ممبئی ، 14 مارچ (ایجنسیز) فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ آخرکار او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہو گئی ہے۔ تھیٹر ریلیز کے دوران جس فلم کے تعلق سے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک بحث ہو رہی تھی، وہی فلم جب ڈجیٹل پلیٹ فارم پر پہنچی تو ناظرین کے ردعمل توقع سے کافی سرد نظر آئے۔ کئی لوگوں نے اسے دیکھنے کے بعد مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ فلم جس بڑے مسئلے اور بحث کو اجاگر کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہ اسکرین پر اتنی مضبوطی سے سامنے نہیں آ سکی۔ ’’دی تاج اسٹوری‘‘کی کہانی تاریخی بحث سے جڑے اس متنازعہ دعوے کے گرد گھومتی ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ تاج محل پہلے ہندو مندر تیجو محلایہ تھا۔ اسی تھیوری کو بنیاد بنا کر فلم میں کورٹ روم ڈرامہ اور تاریخ سے جڑے دلائل دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حساس موضوع کی وجہ سے فلم تنازعات میں رہی اور کئی لوگوں نے اسے تاریخ کی غلط تشریح بتا کر تنقید کی۔ یہ فلم امیزون پرائم پر دستیاب ہے۔ فلم میں تجربہ کار اداکارپریش راول مرکزی کردار میں نظر آتے ہیں اور ان کی اداکاری کو کئی ناظرین نے سراہا بھی ہے۔ تاہم، نقادوں کا کہنا ہے کہ مضبوط اداکار ہونے کے باوجود فلم کی اسکرپٹ اور ٹریٹمنٹ اثر نہیں چھوڑ پائے۔ کئی نقادوں نے مانا کہ کہانی میں دم ہونے کے باوجود فلم کمزور ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کمی کے طور پر سامنے آیا۔ کچھ ناظرین کا ماننا ہے کہ فلم دلچسپ معاملات اٹھاتی ہے اور الگ نظریہ پیش کرتی ہے، لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم بہت لمبی اور بکھری ہوئی لگتی ہے، جس سے اسے آخر تک دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ناظرین نے یہ بھی کہا کہ فلم میں کئی ایسے مناظر اور ذیلی پلاٹ ہیں جو کہانی کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے کمزور کر دیتے ہیں۔ فلم کے ٹریلر اور پوسٹر کو لے کر بھی تنازعہ ہوا، جب ایک پوسٹر میں تاج محل کے اوپر شیو لِنگ کا نشان دکھائے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ بعد میں میکرز کو وضاحت کرنا پڑا کہ فلم کسی مذہبی دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتی، بلکہ صرف ایک خیال اور بحث کو کہانی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ جس فلم نے ریلیز سے پہلے خوب سرخیاں بٹوری تھی، وہی او ٹی ٹی پر آنے کے بعد ناظرین کی توقعات پر پوری طرح کھری نہیں اتری۔